سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 468

سيرة النبي عمال 468 جلد 3 الله نے رد کر دیا۔یہ اس لحاظ سے بھی درست ہے کہ بنی اسرائیل ہمیشہ بنی اسمعیل کو محروم الارث قرار دیتے رہے مگر رسول کریم ﷺ نے خود بھی دعوی کیا ہے کہ آپ کونے کا پتھر ہیں۔چنانچہ فرما یا إِنَّ مَثَلِی وَ مَثَلَ الْأَنْبِيَاءِ مِنْ قَبْلِى كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنِي بَيْتًا فَأَحْسَنَهُ وَاَجْمَلَهُ إِلَّا مَوضِعَ لَبِنَةٍ مِنْ زَاوِيَةٍ فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَيَتَعَجَّبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلَّا وُضِعَتْ هَذِهِ اللَّبَنَةُ؟ قَالَ فَأَنَا اللَّبِنَةُ وَ أَنَا خَاتَمُ النَّبِيِّينَ 66 فرمایا میری اور پہلے انبیا ء کی مثال ایک ایسے مکان کی سی ہے جسے ایک شخص نے بنایا اور اسے خوب سجایا مگر اس کے ایک کو نہ میں ایک اینٹ کی جگہ خالی رکھی۔لوگ آتے اور اس مکان کو دیکھنے کے لئے اس کا چکر کاٹتے اور تعجب سے کہتے یہاں ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے۔میں وہ کونے کی اینٹ ہوں جس سے اس مکان کی تکمیل ہوئی اور خاتم النبین ہوں۔کونے کے پتھر کے بھی یہی معنی ہوتے ہیں کہ وہ دو دیواروں کو آپس میں ملاتا ہے اور دیوار کے معنی قرآن میں روحانی سلسلہ کے ہوتے ہیں۔چنانچہ سورۃ کہف میں حضرت موسی نے دیوار کی مثال بنی اسرائیل سے دی ہے۔اب دیکھنا یہ چاہئے کہ ان صلى الله دو دیواروں سے کیا مراد ہے جن کو رسول کریم علیہ نے کو نہ کا پتھر بن کر ملایا۔سو ایک دیوار تو پہلے انبیاء کی تھی جو مختلف شریعتوں کے تابع تھے اور ایک دیوار قرآن کی تھی۔صلى الله رسول کریم یہ ان دونوں کے اتصال کا ذریعہ ہیں کیونکہ آپ ہی کے ذریعہ آپ کی امت پہلے انبیاء کو مانتی ہے اور آپ ہی کے ذریعہ سے آئندہ آنے والے مامور پہلے نبیوں سے تعلق پیدا کرتے ہیں۔دیکھ لو دوسری قوموں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں لیکن رسول کریم ﷺ کے ذریعے مسلمانوں کا تمام اقوام عالم سے تعلق قائم ہے۔ہندوؤں کے سوا اور کسی قوم کا حضرت کرشن سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن مسلمانوں کا رسول کریم صلى الله کے توسط سے ان سے بھی ہے۔کیونکہ قرآن میں آیا ہے اِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِير 67 اگر رسول کریم ﷺ کے ذریعہ سے یہ معلوم نہ ہوتا کہ ہر قوم میں