سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 456
سيرة النبي عمال 456 جلد 3 ذکر کرنے کا کیا مطلب ہے؟ اس کا مطلب یہی ہے کہ جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ اسلامی حکومت قائم ہوگی تو اس کے متعلق سوال کیا گیا کہ یہ اتنی بڑی بڑی موجودہ حکومتیں کہاں جائیں گی؟ اس کے جواب میں بتایا کہ تباہ ہو جائیں گی۔پھر يَتَّبِعُونَ الدَّاعِی بھی بتاتا ہے کہ یہاں مراد اگلا جہان نہیں کیونکہ مومن تو اس جہان میں بھی ایسے داعی کے پیچھے ہوتے ہیں اور کافروں کے متعلق آتا ہے کہ وہ آخرت میں ساتھ جانا چاہیں گے تو انہیں واپس کر دیا جائے گا۔اور پھر فرماتا ہے مَنْ كَانَ فِي هَذِةٍ أَعْمَى فَهُوَ فِى الْآخِرَةِ أَعْمَى وَأَضَلُّ سَبِيلًا 51 کہ جو اس دنیا میں اندھا ہے وہاں بھی اندھا ہوگا۔اُس وقت کفار کہاں ایمان لائیں گے وہ تو وہاں بھی گمراہ ہی ہوں گے۔پھر داعی کے پیچھے کیونکر چلیں گے۔پس مراد یہی ہے کہ ان حکومتوں کو تباہ کر دیا جائے گا اور جو لوگ اس وقت دشمن ہیں وہ ایمان لے آئیں گے۔چنانچہ جب مکہ فتح ہوا تو سارے دشمن ایمان لے آئے۔پس جبال سے مراد بڑے آدمی اور سردارانِ قوم اور سلاطین ہیں کہ جن کے مارے جانے اور جن کے نظام کو توڑ دیئے جانے پر اسلام کی اشاعت مقدر تھی۔نویں پیشگوئی یہ بیان کی گئی کہ میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بہت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔عربی بائبل میں بیت کی جگہ بلیه یعنی مصیبت لکھا ہے اور پردے کانپ جاتے تھے کی جگہ انگریزی میں Did tremble کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ کوشان کیا ہے؟ بائبل والے کہتے ہیں کہ کوشان کے معنی کوش میں رہنے والا قبیلہ ہے جو عراق عرب کے ایک علاقہ کا نام ہے۔بائبل میں یہ بھی لکھا ہے کہ نمرود کے باپ کا نام کوش تھا اور تاریخ سے ثابت ہے کہ کوش قبیلہ کے لوگ چھ سو سال تک عراق پر حکومت کرتے رہے۔مدیان شمالی عرب کا ساحل سمندر کے پاس کا ایک شہر ہے جو مصر سے شام یا عرب کو جاتے ہوئے راستہ میں پڑتا۔ہے۔قرآن کریم میں اسے مدین کہا گیا ہے۔رسول کریم ﷺ کے وقت میں