سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 457 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 457

سيرة النبي عمار صلى الله 457 جلد 3 حکومت قیصر میں شامل تھا اور شام کے صوبہ کے نیچے تھا۔ان دونوں ملکوں پر رسول کریم ﷺ کے خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حملہ ہوا اور دونوں حکومتوں کو تباہ کر کے اسلامی حکومت قائم کر دی گئی اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی فتح در حقیقت رسول کریم ﷺ ہی کی فتح تھی۔کیونکہ آپ نے فرمایا قیصر و کسری کے خزانوں کی کنجیاں مجھے دی گئی ہیں۔اور جنگ احزاب کے موقع کے متعلق روایت آتی ہے کہ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا تھا۔صحابہ رسول کریم ﷺ کے پاس آئے اور آکر عرض کیا کہ ایک پتھر نہیں ٹوٹتا۔آپ تشریف لائے فَقَالَ بِسمِ اللهِ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً فَكَسَرَ ثُلُثَهَا وَقَالَ اللهُ اَكْبَرُ أعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الشَّامِ وَاللَّهِ إِنِّي لَابُصُرُ قُصُورَهَا الْحُمُرِ السَّاعة ثُمَّ ضَرَبَ الثَّانِيَةَ فَقَطَعَ القُلْتَ الْآخَرَ فَقَالَ اللهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ فَارِسَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَبْصُرُ قَصْرَ الْمَدَائِنِ الْأَبْيَضَ ثُمَّ ضَرَبَ الثَّالِثَةَ وَقَالَ بِسْمِ اللهِ فَقَطَعَ بَقِيَّةَ الْحَجَرِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ الْيَمَنِ وَاللهِ اِنّى لَابُصُرُ أَبْوَابَ صَنْعَاءَ مِنْ مَكَانِي هَذَا السَّاعَةَ 52 صلى الله یعنی رسول کریم ﷺ نے بسم اللہ کہہ کر کدال اپنے ہاتھ میں لی اور اُسے زور سے پتھر پر مارا تو اس میں سے آگ کا ایک شعلہ نکلا اور پتھر کا تیسرا حصہ ٹوٹ گیا۔اس پر الله رسول کریم ﷺ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اللهُ أَكْبَرُ مجھے حکومت شام کی کنجیاں دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم! میں اس کے سرخ محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔پھر دوسری دفعہ رسول کریم ﷺ نے اس کدال کو پتھر پر مارا تو پھر اس میں سے شعلہ نکلا اور پتھر کا ایک اور حصہ ٹوٹ گیا۔اس پر پھر آپ نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا الله اكبر مجھے ایران کی کنجیاں بھی دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم ! میں مدائن کے سفید محلات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں۔پھر آپ نے تیسری دفعہ کدال ماری جس سے پھر اس میں سے ایک شعلہ نکلا اور باقی پتھر بھی ٹوٹ گیا۔اس پر آپ نے پھر نعرہ تکبیر بلند کیا اور فرمایا اللہ اکبر مجھے یمن کی کنجیاں بھی دے دی گئی ہیں اور خدا کی قسم !