سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 449 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 449

سيرة النبي علي 449 جلد 3 رکھیں گے بلکہ بلند و بالا لوگ تعلق رکھیں گے اور اس کی عزت قیامت تک قائم رہے گی۔غرض قرآن نے یہ خبر دی کہ بیت اللہ قائم رہے گا، اس سے اعلیٰ درجہ کے لوگ تعلق رکھیں گے اور مکہ سے تعلق رکھنے والی کتاب کا چشمہ کبھی ختم نہ ہوگا۔چوتھی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ قوم ہمیشہ مقدس کہلائے گی۔قرآن کریم کا یہ بھی دعوی ہے چنانچہ فرمایا بِأَيْدِى سَفَرَةٍ كِرَامِ بَرَرَةِ 31۔یہ قرآن ایسے لوگوں کے ہاتھ میں رہے گا جو بڑے معزز اور اعلیٰ درجہ کے نیکو کار ہوں گے۔ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ بعض اوقات خرابی بھی تو آسکتی ہے پھر یہ کتاب ہمیشہ مقدس لوگوں کے ہاتھ میں کیسے رہی۔سو قرآن نے اس کا جواب بھی دے دیا ہے کہ هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتُبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلْلٍ مُّبِيْنِ - وَأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ 32 - فرمایا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خدا نے امیوں میں رسول بنا کر بھیجا ہے تاکہ وہ ان کو اللہ کی آیتیں سنائے اور پاک کرے اور کتاب کی تعلیم دے اور حکمت سکھائے۔اس کے بعد جب مسلمانوں میں خرابی پیدا ہوگی تو وأَخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم خدا اس رسول کو ایک دوسری قوم میں بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں گویا یہ قوم ہمیشہ مقدس کہلائے گی۔کیونکہ اس میں اصلاح کرنے والے آتے رہیں گے۔پانچویں بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ خداوند کے چھڑائے ہوئے کہلائیں گے۔قرآن میں بھی آتا ہے وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْأَغْلُلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ 33 یعنی دنیا کی گردنوں میں طوق اور پاؤں میں زنجیریں اور بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں۔الله محمد رسول اللہ ﷺ کو ہم نے اس لئے بھیجا کہ ان بیڑیوں کو کاٹ دے اور لوگوں کو ان بندھنوں سے نجات دے۔اس طرح وہ چھڑائے ہوئے کہلائیں گے۔چھٹی بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ بستی مطلوبہ کہلائے گی۔قرآن کریم بھی فرماتا