سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 448
سيرة النبي علي 448 جلد 3 خدا نے خود تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ اسلام کے سوا کوئی مذہب ایسا نہیں جس کا نام خدا نے رکھا ہو۔نہ موسوی مذہب کا کوئی نام رکھا گیا اور نہ عیسوی مذہب کا۔بلکہ ان کے پیروؤں کو بھی کبھی اپنا نام نہ سوجھا۔مگر یہاں یہ بتایا گیا ہے کہ خدا خود نام رکھے گا اور یہ بات صرف اسلام میں ہی پائی جاتی ہے۔دوسری بات یہ بتائی کہ اس کی قوم کو خدا کی خوشنودی حاصل ہوگی۔چنانچہ آتا ہے کہ وہ قوم حفیظاہ کہلائے گی۔یہ عبرانی لفظ ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ خدا تم سے راضی ہوا اور قرآن کریم میں آتا ہے وَالشبقُونَ الْأَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهَجِرِينَ وَالْاَنْصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُمْ بِإِحْسَانٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ 20 یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لانے والے جو ابتدا میں ہی جلد ایمان لے آئے اور مہاجرین اور انصار بھی جو بعد میں آئے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔گویا قرآن صرف یہی نہیں کہتا کہ خدا مسلمانوں سے خوش ہوا بلکہ یہ بھی کہتا ہے کہ وہ بھی خدا سے خوش ہوئے۔تیسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اس کا گھر بعولاہ کہلائے گا۔یعنی اس کی حفاظت کی جائے گی اور اس کی زمین خاوند والی کہلائے گی یعنی کبھی تباہ نہ ہوگی۔اس کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے وَالصُّورِ۔وَكِتَبٍ مَّسْطُورٍ فِي رَقٌ مَّنْشُورٍ - وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ وَالْبَحْرِ الْمَسْجُودِ 30 - فرمایا ہم تم کھا کر کہتے ہیں طور کی یعنی طور شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور اس کتاب کو بھی بطور شہادت پیش کرتے ہیں جو لکھی ہوئی ہے اور ہمیشہ لکھی جائے گی۔اور اس خانہ کعبہ کی بھی قسم کھاتے ہیں جو ہمیشہ معمور رہے گا اور دور دور سے لوگ اس کی طرف آتے رہیں گے۔اور اس چھت کو بھی شہادت کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ہمیشہ بلند رہے گی یعنی اس کی عزت ہمیشہ قائم رہے گی۔گویا بتایا کہ نہ صرف یہ گھر ہمیشہ معمور رہے گا اور کروڑوں انسان اس سے تعلق