سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 450
سيرة النبي عمال 450 جلد 3 ہے وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا 34 یعنی قیامت تک کیلئے یہ بات مقرر کر دی گئی ہے کہ جسے طاقت ہو وہ اس بستی میں جائے اور حج کرے کہ یہ بستی مطلوبہ ہے۔رسول کریم ع کے بارہ پھر ہم اور آگے چلتے ہیں تو حقوق نبی فرماتے صلى الله ہیں ” خدا تیمان سے اور وہ جو قدوس ہے کو ہ فاران میں حقوق نبی کی پیشگوئی سے آیا۔سلاہ اس کی شوکت سے آسمان چھپ گیا اور زمین اس کی حمد سے معمور ہوئی۔۔۔۔۔مری اس کے آگے آگے چلی اور اس کے قدموں پر آتشی و با روانہ ہوئی۔وہ کھڑا ہوا اور اس نے زمین کو لرزا دیا۔اس نے نگاہ کی اور قوموں کو پراگندہ کر دیا۔اور قدیم پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گئے اور پرانی پہاڑیاں اس کے آگے جھنس گئیں۔اس کی قدیم را ہیں یہی ہیں۔میں نے دیکھا کہ کوشان کے خیموں پر بہت تھی اور زمین مدیان کے پردے کانپ جاتے تھے۔۔۔۔۔۔سورج اور چاند اپنے اپنے مکان میں ٹھہر گئے۔تیرے تیروں کی روشنی کے باعث جواڑے اور تیرے بھالے کی چمکاہٹ کے سبب تو قہر کے ساتھ زمین پر کوچ کر گیا۔تو نے نہایت غصے ہو کے قوموں کو روند ڈالا ہے۔تو اپنی قوم کو رہائی دینے کیلئے ہاں اپنی ممسوح کو رہائی دینے کیلئے نکل چلا۔تو بنیاد کو گردن تک ننگا کر کے شریر کے گھر کے سرکو کچل ڈالتا ہے۔سلاہ تو نے اس کے سرداروں میں سے اسے جو عالی درجہ کا تھا اسی کے بھالوں سے مار ڈالا۔وے مجھے پراگندہ کرنے کو آندھی کی طرح نکل آئے۔ان کا فخر یہ تھا کہ مسکینوں کو ہم چپکے نگل جاویں ہر چند انجیر کا درخت نہ پھولے اور تاکوں میں میوے نہ لگیں۔۔۔۔۔۔تس پر بھی میں خداوند کی یاد میں خوشی کروں گا۔میں اپنی نجات کے خدا کے سبب خوش وقت ہوں گا 35۔اس میں پہلی پیشگوئی تو یہ کی گئی ہے کہ خدا تیمان سے ظاہر ہوا۔تیمان کے معنی عبرانی مفسر جنوب کی سرزمین کے کرتے ہیں اور عرب فلسطین سے جنوب کی طرف ہی