سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 447 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 447

سيرة النبي علي 447 جلد 3 لئے چلے جاؤ۔گویا وہی الفاظ جو بائبل میں آتے ہیں قرآن کریم میں بھی آئے ہیں۔پیشوا اور فرمانروا کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 25 - یعنی اے لوگو! اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا 26 چاہتے ہو تو میری فرمانبرداری اختیار کرو۔میں تمہارا پیشوا اور فرمانروا ہوں۔چوتھی بات یہ بیان فرمائی کہ دوسری قومیں اس رسول پر ایمان لاویں گی۔سواس کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے قُلْ يَا يُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعا 20 یعنی تو ساری دنیا سے کہہ دے کہ میں تم سب کی طرف رسول ہو کر آیا ہوں۔اب دیکھ لو ہم میں سے کوئی کسی قوم کا ہے اور کوئی کسی قوم کا۔اور یہ قو میں نہ عربوں کو جانتی تھیں اور نہ عرب انہیں جانتے تھے مگر محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں سب ایک ہوگئی ہیں۔پھر یسعیاہ باب 62 آیت 2 تا 5 میں ہی لکھا ہے ” تب قو میں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے اور تو ایک نئے نام سے کہلایا جائے گا جو خداوند کا منہ خود تجھے رکھ دے گا اور تو حفیظاہ کہلائے گی اور تیری سرزمین بھولا ہ۔کیونکہ خدا وند تجھ سے خوش ہے اور تیری زمین خاوند والی ہوگی 27۔66 اس میں بتایا گیا ہے کہ آنے والے موعود کے زمانہ میں اس کی قوم حفیظاہ کہلائے گی اور اس کی زمین بعو لاہ۔سارے بادشاہ اس کی شوکت دیکھیں گے اور اس کا نام رکھا جائے گا۔پھر لکھا ہے ” تب وہ مقدس قوم اور خداوند کے چھڑائے ہوئے کہلائیں گے اور تو مطلوبہ کہلائے گی اور وہ شہر جو ترک کیا نہ گیا 28۔صلى یہ سب باتیں رسول کریم ﷺ کے وجود میں پائی جاتی ہیں۔مثلاً (1) کہا گیا ہے کہ وہ ایک نئے نام سے کہلائے گا جسے خداوند کا منہ خود رکھ دے گا۔چنانچہ یہ نیا نام اسلام ہے جو خدا تعالیٰ نے خود رکھا اور ارشاد فرمایا که هُوَ سَمَّكُمُ الْمُسْلِمِينَ