سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 446
سيرة النبي عمال 446 جلد 3 گھر ایسا نہ تھا جس کا کوئی نہ کوئی آدمی اس جنگ میں شریک نہ ہوا ہو۔(4) پھر اس جنگ میں بڑے بڑے سردار مارے گئے۔ان باتوں سے ظاہر ہے کہ خیالات پر اور تلواروں پر اسی کا قبضہ تھا جس نے یسعیاہ کے ذریعہ یہ پیشگوئی کرائی تھی۔مکہ میں اس جنگ کی وجہ سے ایسی تباہی آئی کہ ہر گھر میں ماتم برپا ہو گیا اور اس ڈر سے کہ لوگ دل نہ چھوڑ بیٹھیں ان کو حکما رونے سے منع کر دیا گیا۔ایک شخص کے تین بیٹے تھے اور وہ متینوں اس جنگ میں مارے گئے۔وہ اندر چُھپ چُھپ کر روتا تھا مگر اس کی تسلی نہ ہوتی تھی۔ایک دن ایک شخص کا اونٹ گم ہو گیا اور وہ رونے لگ گیا۔اس شخص نے اس کے رونے کی آواز سن کر کسی سے کہا دیکھ ! کیا ئین ڈالنے کی اجازت مل گئی ہے؟ اور پھر فوراً باہر نکل کر پیٹنے لگ گیا اور زور زور سے ٹین ڈالنے لگا۔غرض ہجرت کے عین ایک سال بعد بدر کی جنگ ہوئی اور اس میں قیدار کے بڑے بڑے جنگجو اور بہادر مارے گئے اور شکست کھا کر بھاگے۔اور تیما جسے عرب تہامہ کہتے ہیں اس میں ماتم برپا ہو گیا۔پھر یسعیاہ نبی ہی کہتے ہیں دیکھ میں نے اسے قوموں کے لئے گواہ مقرر کیا بلکہ لوگوں کا ایک پیشوا اور فرمانروا۔دیکھ تو ایک گروہ جسے تو نہیں جانتا بلا دے گا اور وے گرو ہیں تجھے نہیں جانتیں۔خداوند تیرے خدا اور اسرائیل کے قدوس کے لئے جس نے تجھے جلال بخشا تیرے پاس دوڑتی آئیں گی 23۔اس میں یہ باتیں بتائیں کہ (1) وہ لوگوں کے لئے گواہ ہوگا۔(2) لوگوں کیلئے پیشوا اور (3) فرمانروا ہوگا (4) ایسی قومیں اس پر ایمان لائیں گی جنہوں نے -23% بنی اسرائیل کے نام نہ سنے ہوں گے اور نہ بنی اسرائیل نے ان کے۔لوگوں کے لئے گواہ ہونے کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے هُوَ سَقْكُم الْمُسْلِمِينَ مِنْ قَبْلُ وَفِي هَذَا لِيَكُونَ الرَّسُوْلُ شَهِيدًا عَلَيْكُمْ وَتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ 24۔یعنی ہم نے تمہارا نام مسلم رکھا ہے۔اس زمانہ میں بھی اور پہلے بھی تا کہ یہ رسول تم پر گواہ ہو اور تم باقی دنیا پر گواہ ہو اور اس رسالت کو قیامت تک