سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 441 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 441

سيرة النبي عمال 441 جلد 3 نہا کے تمکنت سے بیٹھے ہیں۔اس کے رخسار پھولوں کے چمن اور بلسان کی ابھری ہوئی کیاریوں کی مانند ہیں۔اس کے لب سوسن ہیں جن سے بہتا ہوائر ٹپکتا ہے۔اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے سونے کی کڑیاں جن میں ترسیس کے جواہر جڑے ہیں۔اس کا پیٹ ہاتھی دانت کا سا کام ہے جس پر نیلم کے گل بنے ہوں۔اس کے پیرایسے جیسے سنگ مرمر کے ستون جو سونے کے پائیوں پر کھڑے کئے جائیں۔اس کی قامت لبنان کی سی۔وہ خوبی میں رشک سرو ہے۔اس کا منہ شیرینی ہے۔ہاں وہ سرا پا عشق انگیز ہے۔(عبرانی میں لکھا ہے وہ محمد یم ہے ) اے یروشلم کی بیٹیو! یہ میرا پیارا یہ میرا جانی 66 ہے۔گویا حضرت سلیمان علیہ السلام بھی اس امر کی تاکید کرتے ہیں کہ جب وہ محبوب آئے تو اسے مان لینا۔اور پھر خود ہی سوال پیدا کر کے کہتے ہیں کہ اس میں یہ یہ خوبیاں ہوں گی۔ان آیات میں بعض باتیں تو شاعرانہ رنگ رکھتی ہیں اور بعض رسول کریم ہے کے خلیہ سے قطعی طور پر ملتی ہیں۔مثلاً لکھا ہے اس کی زلفیں پیچ در پیچ ہیں۔انگریزی بائبل میں یہ الفاظ آتے ہیں۔g‘His locks are wary۔اور یہی حلیہ حدیثوں میں بیان ہوا ہے۔چنانچہ حضرت علیؓ فرماتے ہیں لَمْ يَكُنُ رَسُولُ الله الا الله بِالطَّوِيلِ الْمُمَّغِطِ وَ بِالْقَصِيرِ الْمُتَرَدِّدِ وَكَانَ رَبُعَةً مِنَ الْقَوْمِ لَمْ يَكُنْ بِالْجَعْدِ الْقَطَطِ وَلَا بِالسَّبُطِ كَانَ جَعْدًا رَجِلاو۔یعنی رسول کریم ہے نہ تو بہت لمبے قد کے تھے نہ بہت چھوٹے بلکہ آپ میانہ قد وقامت رکھنے والوں میں سے تھے۔اسی طرح آپ کے سر کے بال نہ تو سخت گھنگر الے تھے جیسے حبشیوں کے ہوتے ہیں اور نہ ہی بالکل سیدھے تھے بلکہ اس طرح گھنگر الے تھے جس طرح کنگھی کرنے سے بال نیچے سے ذرا خمیدہ ہوجائیں اور مڑ جائیں۔یہی حضرت سلیمان نے کہا کہ آپ کے بال لمبے ہوں گے یعنی زلفیں ہوں گی مگر بال کچھ پیچ دار ہوں گے۔رسول کریم علیہ کے سر کے بال کانوں کی لو تک آتے تھے۔گویا لمبے