سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 35

سيرة النبي عمال 35 جلد 3 مذہبی لیڈروں کا لڑائی میں حصہ لینا چنانچہ ہم کہتے ہیں جتنے بڑے بڑے مذہبی لیڈر ہوئے ہیں انہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں لڑائی میں حصہ لیا ہے۔رامچند رجی نے لڑائی میں حصہ لیا۔انہوں نے راون پر جو حملہ کیا اور اسے تباہ کیا یہ درست تھا کیونکہ وہ سبق دینا چاہتے تھے کہ کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہئے۔ان کے اس مقصد کو دیکھ کر ہر عقلمند ان کے اس فعل کو درست کہے گا اور ان کی تعریف کرے گا۔اسی طرح کرشن جی نے لڑائی میں حصہ لیا۔لڑائی کرنے کی پر زور تحریک کی اور گیتا میں اس بات پر بڑا زور دیا کہ لڑائی کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔اور اچھے اغراض کے ماتحت لڑائی کرنا منع نہیں ہے۔اور بتایا ہے کہ کرشن جی لڑائی کی تحریک خدا کے لئے ہی کر رہے تھے اس لئے ان کا فعل اچھا تھا برا نہ تھا۔اسی طرح دوسرے مذاہب میں بھی مثالیں پائی جاتی ہیں۔اگر چہ حضرت عیسی علیہ السلام کولڑائی کا موقع نہیں ملا مگر ان کے بعد میں آنے والے پیرؤوں نے لڑائیاں کیں اور حق کے لئے کیں۔پس جو کام دنیا کی اصلاح اور فائدہ کے لئے کیا جائے اور نیک نیتی سے کیا جائے ، جائز حد تک کیا جائے وہ برا نہیں ہوتا بلکہ اچھا ہوتا ہے۔یہی حال رحمت کا بھی ہے۔رحم بھی اُسی وقت رحم کس حال میں اچھا ہے اچھا ہوتا ہے جب کہ نیک نیتی اور نیک ارادہ سے کیا جائے۔مثلا ایک شخص کے پاس کسی کا لڑکا ہو جو روز بروز خراب ہوتا جائے مگر۔وہ اسے کچھ نہ کہے اور کسی برائی سے نہ روکے تو کوئی شخص اسے اچھا نہ کہے گا۔ہر ایک یہی کہے گا کہ اس نے بہت برا کیا، فلاں کے لڑکے کو خراب کر دیا۔اسی طرح طبعی رحم بھی کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔ایک شخص میں بزدلی پائی جاتی ہے اور اس وجہ سے وہ کسی کو سزا نہیں دے سکتا تو یہ اس کی خوبی نہیں ، نہ قابل تعریف بات بلکہ یہ نقص ہے۔اسی طرح اگر کوئی ریا کے طور پر رحم کرے، اس کے دل میں تو بغض بھرا ہو مگر ظاہر طور پر وہ رحم کا سلوک کرے تو یہ بھی قابل قدر نہ ہو گا۔یا اگر نیک سلوک اس لئے کرتا ہو کہ اسے