سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 36
سيرة النبي عمال 36 96 جلد 3 کچھ حاصل ہو جائے تو یہ بھی قابل تعریف نہ ہوگا۔جیسے شاعر لوگوں کی اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ کچھ مل جائے۔لیکن اگر حسنِ سلوک، دلیل اور برہان کے ماتحت ہو،فکر کے نتائج میں ہو، دوسرے کے فائدہ کے لئے ہو کہ اس سے ان کی اصلاح ہوگی اور امن قائم ہوگا تو یہ قابل قدر چیز ہوگی۔پھر نفس کے آرام کا بھی یہی حال ہے وہ جس مقصد کے لئے ہوگا نفس کا آرام اسی کے مطابق اس کا درجہ ہوگا۔اگر وہ لذت نفس کے لئے ستی یا تکبر کے لئے یا آرام طلبی کی غرض سے ہو تو برا ہے۔لیکن اگر حکمت کے ماتحت ہو، اظہار شکر کے لئے ہو تو اچھا ہے۔مثلاً اگر کوئی اس لئے سوتا ہے کہ تازہ دم ہو کر خدا کے لئے یا بنی نوع انسان کے لئے زیادہ محنت سے کام کر سکے گا تو اس کا یہ آرام پانا قابل تعریف ہوگا۔یا کوئی کھانا اس لئے کھاتا ہو کہ طاقت پیدا ہو اور دین یا دنیا کی خدمت کر سکوں تو یہ بھی قابل تعریف ہوگا۔یا اچھے کپڑے اس لئے پہنتا ہو کہ اللہ نے اس پر جو احسان کیا ہے اسے ظاہر کرے، صفائی رکھے تو یہ اچھی بات ہے۔اسی طرح اگر کوئی زہد اختیار کرے یعنی دنیا کی چیزوں کو چھوڑے تو وہ اگر اس لئے چھوڑے کہ لوگ اس کی تعریف کریں تو یہ برافعل ہے۔لیکن اگر اس لئے چھوڑے کہ لوگوں کو نفع پہنچائے تو اچھا ہے۔یا اگر اس لئے چھوڑے کہ لوگ اسے پیر مان لیں تو یہ برا ہے۔لیکن اگر لوگوں کے لئے قربانی کرتا ہے تو یہ اچھا ہے۔پس اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ لوگوں کو سزا دینا یا ان پر رحم کرنا، کسی کو مارنا یا خود مرنا یا زندہ رہنا اگر خدا کے لئے ہے تو اچھا فعل ہے اور اگر خدا کے لئے نہیں تو صلى الله پھر اچھا فعل نہیں ہے۔رسول کریم ﷺ کی زندگی اس گھر کے ماتحت رسول کریم میلے کے اعمال کو دیکھنا چاہئے کہ آپ کی زندگی لوگوں کے فائدہ صلى کے لئے تھی یا اپنے فائدہ کے لئے۔آپ کا مرنا اپنے لئے تھا یا لوگوں کے فائدہ کے