سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 34 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 34

سيرة النبي علي 34 جلد 3 اپنے پاس سے روپیہ دے کر بھی سزا لیا کرتا ہے۔خدا تعالیٰ پر الزام پس دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ کسی فعل کا مقصد کیا ہے۔اس کی غرض فائدہ پہنچانا ہے یا تکلیف دینا۔اور صرف سزا کو دیکھ کر یہ کہنا کہ ظلم کیا گیا ہے درست نہیں ہے۔ورنہ دنیا کے سارے مجسٹریٹ ، سارے استاد، سارے ماں باپ، سارے ڈاکٹر ظالم قرار دینے پڑیں گے۔بلکہ نَعُوذُ بِاللهِ خدا کو بھی ظالم کہنا پڑے گا کیونکہ ہم روز دیکھتے ہیں کہ وہ ہزاروں اور لاکھوں انسانوں کی جان نکالتا ہے۔وبائیں آتی ہیں، طوفان آتے ہیں، اگر صرف کسی تکلیف دہ فعل کو دیکھ کر اسے ظلم قرار دینا درست ہو سکتا ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ نَعُوذُ بِالله خدا بھی ظالم ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ کے ایسے فعل کی کوئی حکمت ہوتی ہے مثلاً یہی کہ ایک قوم کے نزدیک وہ پچھلے جنم کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے یا ایک دوسری قوم کے نزدیک گناہوں سے بچانے کے لئے ہوتا ہے یا اگلے جہان میں ترقی دینے کے لئے ہوتا ہے تو ماننا پڑے گا کہ ہر سزا کو دیکھ کر اسے ظلم نہیں کہا جا سکتا۔جیسا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو سزا آتی ہے چاہے اسے تاریخ کا نتیجہ سمجھو، چاہے اس دنیا کی زندگی کے اعمال کی جزا سمجھو، چاہے تنبیہ کے طور پر سمجھو، چاہے ترقی کا ذریعہ سمجھو مگر بہر حال یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ وہ ظلم نہیں ہے بلکہ رحم ہے اور انسان کے فائدہ کے لئے ہے۔فرض کسی انسان کے فعل میں کوئی سختی یا سزا یا موت یا قتل کا پایا جانا ظلم نہیں ہوتا۔ظلم اُس وقت ہوتا ہے جب یہ ثابت ہو جائے کہ محبت اور شفقت، ہمدردی اور خیر خواہی کے طور پر نہیں بلکہ انتقام اور بدلہ لینے کے لئے سزا دی گئی ہے۔اگر غصہ اور بے پرواہی ، بدلہ اور لذت انتقام کے لئے سزا دی جائے تو یہ فعل یا تو عبث ہوگا اور یا ظالمانہ کہلائے گا۔لیکن اگر فعل کی غرض رضائے الہی ، اصلاح نفس سزا یافتہ یا حفاظت بنی نوع انسان یا حفاظت حقائق از لیہ ہوتو یہ فعل برا نہ ہوگا۔