سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 33

سيرة النبي عمال 33 33 اور وہ کہے یہ کتنا بڑا ظلم ہو رہا ہے تو یہ درست نہ ہوگا۔کیونکہ اگر استاد کسی لڑکے کی شرارت پر اسے سزا نہ دے گا تو اس لڑکے کے ماں باپ کو حق ہوگا کہ وہ کہیں استاد نے اس کے لڑکے کو آوارہ کر دیا ہے اور اس کی اصلاح نہیں کی۔اور ممکن ہے کہ لڑکا خراب ہو کر کہیں کا کہیں چلا جائے۔مثلاً لڑکے نے چوری کی یا امتحان میں نقل کی یا کوئی بدکاری کی۔اب اگر پیار و محبت سے سمجھانے پر وہ نہیں سمجھتا اور شرارت میں بڑھتا جاتا ہے جس پر استاد اسے سزا دیتا ہے تو یہ ظلم نہیں ہوگا بلکہ اس سے محبت اور ہمدردی ہوگی۔پس دیکھنا یہ ہوگا کہ استاد نے لڑکے کو مارا کیوں ہے۔صرف بید لگتے دیکھ کر یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ اس پر ظلم کیا گیا ہے۔اسی طرح کسی گھر میں کوئی ماں یا باپ ایسا نہ ہوگا جس نے کبھی اپنے بچے کو جھڑ کا نہ ہو یا تنبیہ نہ کی ہو یا مارا نہ ہو۔مگر یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سب ماں باپ ظالم ہوتے ہیں۔وہ اپنے بچوں پر ظلم نہیں کرتے بلکہ ان سے پیار اور محبت رکھتے ہیں اور ان کی اصلاح کے لئے جب ضرورت سمجھتے ہیں سزا بھی دیتے ہیں۔ڈاکٹر کا نشتر اسی طرح کوئی شخص ہسپتال کے پاس سے گزرے اور دیکھے کہ ڈاکٹر نے نشتر نکالا ہوا ہے اور ایک شخص کے جسم کو چیر رہا ہے تو اسے کوئی عقلمند آدمی ظلم نہ کہے گا۔دیکھنا یہ ہوگا کہ کیوں چیرا دیا گیا ہے۔اگر ڈاکٹر چیرا دے کر پیپ نہ نکالتا یا گندہ حصہ کو جدا نہ کرتا تو وہ شخص مر جاتا۔پس اگر ڈاکٹر کسی کے زخم سے پیپ نکالتا ہے یا اس کے پیٹ کو چیر کر پتھری نکالتا ہے یا اس کا کوئی دانت نکالتا ہے یا بعض دفعہ اس کا ہاتھ یا پاؤں یا ناک یا کان کاٹتا ہے تو وہ ظلم نہیں کرتا بلکہ رحم کرتا ہے۔اور جو شخص یہ دیکھے گا کہ ڈاکٹر اس قسم کا کام کر رہا ہے وہ یہی کہے گا کہ اس نے احسان کیا ہے اور اس کے احسان ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ لوگ خود ڈاکٹروں کے پاس جاتے اور بڑی بڑی رقمیں دے کر اپنا ہاتھ یا پاؤں یا کوئی اور حصہ کٹواتے ہیں۔اگر یہ رحم اور احسان نہ ہوتا تو روپیہ اس کے بدلے میں دے کر کیوں ایسا کراتے۔کیا کبھی کوئی جلد 3