سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 32 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 32

سيرة النبي عمال 32 جلد 3 سے خدا تعالیٰ نے کہلایا ہے کہ تیرے ذریعہ دنیا پر احسان کئے گئے ہیں۔تجھ سے دنیا کے لئے قربانیاں کرائی ہیں اور تجھ کو پاک کیا گیا ہے۔صلوۃ کے معنی دعا اور رحمت کے ہیں۔پس اس کے معنی نیک سلوک اور احسان کے ہوئے۔نُسک کے معنی ذبح کر دینے کے ہیں۔پس اس کے معنی سزا دینے کے ہوئے۔مَحْيَايَ یعنی زندگی ذاتی آرام اور آسائش اور مَمَاة یعنی موت ذاتی قربانی کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔پس اس آیت میں یہ بتایا کہ کہو میری عبادت یا میرا لوگوں سے حسن سلوک ( یہ بھی صلوۃ کے معنی ہیں ) اور میرا قربانیاں کرنا اور میری اپنی زندگی اور اپنی موت یہ سب خدا ہی کے لئے ہے۔پہلی چیز جو صَلَاتِی ہے اس میں لوگوں پر احسان کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یعنی فرمایا میرے ذریعہ لوگوں پر احسان ہوئے ہیں۔دوسرے نُسکی وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي میں بتایا کہ میرا مارنا یا مرنا یعنی قربانی کرنا یہ بھی خدا ہی کے لئے ہے۔اس آخری جملہ میں تقدس کی طرف اشارہ ہے۔کیونکہ تقدس کے معنی پاک ہونے کے ہیں اور جو چیز خدا کے لئے ہوگی وہ پاک نہ ہوگی تو اور کونسی پاک ہوگی۔پس اس آیت میں تینوں باتیں بیان کر دی گئی ہیں۔ایک تو اس آیت میں دعوی بیان کیا گیا ہے اور دوسرے گر بھی بتا دیا ہے کہ احسان اور قربانی اور تقدس کی دلیل کیا ہوتی ہے۔ایک خاص کر اس آیت میں یہ گر بتایا گیا ہے کہ کسی شخص کے احسان یا قربانی یا تقدس کو دیکھتے وقت اس کے اعمال کے ٹکڑوں کو نہ لینا چاہئے بلکہ تمام زندگی پر نظر کرنی چاہئے اور اس کے اعمال کے مقصد کو دیکھنا چاہئے۔صرف سزا کو دیکھ کر یہ خیال کر لینا کہ یہ شخص ظالم ہے درست نہیں۔یا کسی تکلیف دہ عمل کو دیکھ کر یہ سمجھنا کہ یہ شخص ظالم ہے صحیح نہیں۔کسی کو سزا دیتے ہوئے دیکھ کر کوئی کہے کہ یہ کتنا بڑا ظالم ہے تو بسا اوقات وہ اس کے متعلق رائے قائم کرنے میں غلطی کر جائے گا۔مثلاً ہمارے سامنے اس وقت مدرسہ کی عمارت ہے۔یہاں سے استاد کے بید ایک شخص گزرے اور دیکھے کہ ہیڈ ماسٹر ایک لڑکے کو بید لگا رہا ہے