سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 419
سيرة النبي عمال 419 جلد 3 نے اس کے لئے بعض ذرائع تجویز کئے لیکن وہ نہایت گندے ہیں۔مثلاً بعض اقوام میں یہ رواج ہے کہ ملوث پار چات دکھاتے ہیں لیکن یہ نہایت ہی خطرناک طریق ہے اور اس میں سب سے بڑا نقص یہ ہے کہ بعض عورتوں کا خون نکلتا ہی نہیں اور چونکہ سب لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہوتے ہیں اس لئے گندے کپڑوں کی نمائش سے ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ عورت بدکا رتھی حالانکہ وہ ایسی نہیں ہوتی۔شریعت اسلامیہ نے اس کے لئے کیا لطیف طریق رکھا ہے اور وہ یہ کہ جب میاں بیوی ملیں تو اگلے روز ولیمہ کی دعوت کی جائے۔اس طرح بغیر ایک لفظ منہ سے نکالے یہ اعلان ہو جاتا ہے کہ میاں بیوی آپس میں مل گئے ہیں۔پھر ایک بات اسلام نے یہ رکھی کہ نکاح سے قبل استخارہ کر لو۔رسول کریم علی نے ہرا ہم امر میں استخارہ کا حکم دیا ہے بالخصوص شادی کے بارے میں 1۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جلد بازی کے برے انجام سے انسان بچ جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کر سکتا ہے۔جلد بازی سے بھی کئی جھگڑے پیدا ہو جاتے ہیں بعض لوگ کہتے ہیں کہ بڑا اچھا رشتہ ہے آج ہی کر لو لیکن مقصد ان کا یہ ہوتا ہے کہ ان کے عیوب ظاہر نہ ہونے پائیں۔لیکن اگر سات روز تک استخارہ کیا جائے تو اس عرصہ میں اور لوگوں سے بھی شادی کا ذکر آئے گا اور اس طرح بات کھل جائے گی۔پھر استخارہ کی وجہ سے جذبات دب جاتے ہیں اور انسان روحانی تصرف کے ماتحت ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کی تائید ونصرت اس کے علاوہ ہے۔شادی کے بعد پھر میاں بیوی کے تعلقات شروع ہو جاتے ہیں۔اس میں بھی اسلام کا دیگر مذاہب کی تعلیم سے تصادم ہوتا ہے۔باقی سب مذاہب اسے ناپاک قرار دیتے ہیں وہ اس کی اجازت بھی دیتے ہیں مگر اس کے باوجود اسے ادنی اور ذلیل قرار دیتے اور شادی نہ کرنے کو بہتر سمجھتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ فطرت سے مجبور ہو کر ان تعلقات کو قائم بھی کیا جاتا ہے مگر چونکہ دل میں یہ احساس ہوتا ہے کہ یہ ناپاک