سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 418
سيرة النبي علي 418 جلد 3 کا انسداد ہو جاتا ہے۔پوشیدہ طور پر تو کوئی غلط بات ظاہر کر کے دھوکا بھی دے سکتا ہے لیکن اعلان سے عام طور پر عیوب کھل جاتے ہیں۔پھر تمدنی خرابیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ مرد چونکہ کماتا ہے دولت اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے اس لئے وہ نا جائز طور پر عورت کو خرچ وغیرہ سے تنگ کر سکتا ہے اور عورت کو اس کا محتاج رہنا پڑتا ہے۔یورپ نے اس کا یہ علاج تجویز کیا ہے کہ وہ نوکریاں کرنے لگ گئی ہیں نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ بعض ملکوں کی نسلیں کم ہونا شروع ہوگئی ہیں اور بعض ملکوں میں دس سال کے اندر چار، پانچ فیصدی نسل کم ہوگئی ہے۔اسلام نے اس کا علاج یہ رکھا ہے کہ ہر شخص کی حیثیت کے مطابق عورت کا مہر مقرر کر دیا علاوہ اخراجات کے۔گویا مہر عورت کا جیب خرچ ہے دوسری سب ضرورتیں پھر بھی خاوند کے ذمہ ہیں اور مہر اس کے علاوہ ہے۔جس سے وہ ان ضرورتوں کو پورا کر سکتی ہے جو وہ خاوند کو نہیں بتانا چاہتی۔مثلاً اس کے والدین غریب ہیں اور وہ ان کی مدد کرنا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی خاوند پر اپنی یہ خواہش ظاہر کر کے اس کی نظروں میں خود ذلیل ہونا اور والدین کو ذلیل کرنا نہیں چاہتی۔یا مثلاً اس کے والدین فوت ہو چکے ہیں اور وہ اپنے بھائیوں کو تعلیم دلانا چاہتی ہے اور ساتھ ہی اس کی غیرت یہ بھی برداشت نہیں کرتی کہ خاوند کا احسان برداشت کرے اس لئے اسلام نے پہلے دن سے عورت کے ہاتھ میں مال دے دیا۔جس دن شادی ہوتی ہے خاوند کا مال کم ہو جاتا ہے کیونکہ اسے مہر کے علاوہ اور بھی اخراجات کرنے پڑتے ہیں لیکن نکاح کے ساتھ ہی عورت کا مال بڑھ جاتا ہے۔گویا وہ اسی دن سے اس لحاظ سے خاوند کے بے جا تصرف سے آزاد ہو جاتی ہے اور اس طرح جو جھگڑے وغیرہ یورپ میں پیدا ہو رہے ہیں اسلام نے پہلے دن سے ہی ان کا انسداد کر دیا۔پھر مرد و عورت کے تعلقات میں ایک وجہ فساد یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ کہہ دیتے ہیں میرا بچہ نہیں اور یہ ایک ایسا نازک معاملہ ہے جس کا علاج کوئی نہیں کیونکہ اس بات کا کسی کے پاس کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ میاں بیوی فی الواقعہ باہم ملے۔بعض لوگوں