سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 420 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 420

سيرة النبي عمال 420 جلد 3 تعلقات ہیں اس لئے دل پر زنگ لگتا رہتا ہے کہ ہم یہ برا کام کر رہے ہیں۔گاندھی جی نے لکھا ہے میں جب بھی بیوی کے پاس جاتا تو میرے دل پر ایک بوجھ ہوتا کہ میں برا کام کر رہا ہوں۔آخر ہم نے قسم کھائی کہ آئندہ ایسا نہیں کریں گے۔یہ ہندو دھرم کی تعلیم کا اثر تھا۔ایک طرف تو فطرت میں ایسا جذبہ ہے، پھر اولاد کی خواہش ہوتی ہے، صحت کے لئے بھی ضروری ہوتا ہے لیکن دوسری طرف یہ خیال ہوتا ہے کہ بری بات ہے۔نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ کام کرتے بھی ہیں اور دل سیاہ ہوتا جاتا ہے کہ ہم برا کام کر رہے ہیں۔اسلام نے بتایا کہ یہ خیال غلط ہے۔اگر اس خیال کے ماتحت تعلقات قائم کرو گے تو بچہ کے دل میں بھی یہ خیال ہو گا اور گناہ کی مہر لے کر رحم مادر سے نکلے گا۔اس کی بنیاد ہی گناہ پر ہوگی اور وہی مثال ہوگی کہ خشت اول چوں نہر معمار کج تا ثریا می رود دیوار کج بچے کی پیدائش کی بنیاد ہی جب گند پر ہوگی تو اس کا دل کبھی پاک نہ ہو سکے گا۔رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ تعلقات پاکیزہ ہیں اور جو شادی نہیں کرتا وہ غلطی کرتا ہے۔رہبانیت پسندیدہ چیز نہیں جس شخص نے شادی نہ کی اور وہ مر گیا فَهُوَ بطال اس کی عمر ضائع گئی۔غرض آپ نے بتایا کہ یہ تعلق گندہ نہیں بلکہ انسانی صحت اور دماغی ترقی کا منبع ہے۔میاں بیوی گویا پاکیزہ محبت کا مدرسہ اور محبت کی پہلی کڑی ہیں اور اسلام نے یہ کہہ کر کہ یہ پاکیزہ تعلقات ہیں گناہ کے احساس کو مٹا دیا۔گناہ کے احساس کی وضاحت کے لئے ایک مثال دے دیتا ہوں۔فرض کرو کہ ایک شخص کہیں سفر پر جا رہا ہے اسٹیشن پر آ کر گاڑی میں بیٹھ گیا بعد میں بیوی کو خیال آیا کہ میاں کو کھانے کی تکلیف ہوگی اس نے کھانا تیار کر کے کسی کے ہاتھ اسٹیشن پر بھیج دیا۔گاڑی روانہ ہو رہی تھی اور وہ بمشکل کھانے کو اس ڈبہ میں رکھ سکا جس میں میاں بیٹھا ہے لیکن اسے