سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 400 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 400

سيرة النبي عمل 400 جلد 3 عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَتَبِعَهُمْ رَجُلٌ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّكَ دَعَوْتَنَا خَامِسَ خَمْسَةٍ وَهذَا رَجُلٌ قَدْ تَبَعَنَا فَإِنْ شِئْتَ اذِنْتَ لَهُ وإِنْ شِئْتَ تَرَكْتَهُ قَالَ بَلْ اَذِنْتُ لَهُ 3 آپ نے فرمایا کہ ایک شخص انصار میں تھا اس کا نام ابو شعیب تھا اور اس کا ایک غلام تھا جو قصائی کا پیشہ کرتا تھا۔اسے اس نے حکم دیا کہ تو میرے لئے کھانا تیار کر کہ میں رسول اللہ ﷺ کو چار اور آدمیوں سمیت کھانے کیلئے بلاؤں گا۔پھر اس نے رسول اللہ علیہ سے بھی کہلا بھیجا کہ حضور علی کی اور چار اور آدمیوں کی دعوت ہے۔جب آپ اس کے ہاں چلے تو ایک اور شخص بھی ساتھ ہو گیا۔جب آپ اس کے گھر پر پہنچے تو اس سے کہا کہ تم نے ہمیں پانچ آدمیوں کو بلایا تھا اور یہ شخص بھی ہمارے ساتھ آ گیا ہے۔اب بتاؤ کہ اسے بھی اندر آنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اجازت ہے۔تو آپ اس کے سمیت اندر چلے گئے۔اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح بے تکلفی سے معاملات کو پیش کر دیتے۔شاید آپ کی جگہ کوئی اور ہوتا تو چپ ہی رہتا مگر آپ دنیا کے لئے نمونہ تھے اس لئے آپ ہر بات میں جب تک خود عمل کر کے نہ دکھاتے ہمارے لئے مشکل ہوتی۔آپ نے اپنے عمل سے بتا دیا کہ سادگی ہی انسان کے لئے مبارک ہے اور ظاہر کر دیا کہ آپ کی عزت تکلات یا بناوٹ سے نہیں تھی اور نہ آپ ظاہری خاموشی یا وقار سے بڑا بننا چاہتے تھے بلکہ آپ کی عزت خدا کی طرف سے تھی۔گھر کے اخراجات میں سادگی آپ کی زندگی بھی نہایت سادہ تھی اور وہ اسراف اور غلو جو امرا اپنے گھر کے اخراجات میں کرتے ہیں آپ کے ہاں نام کو نہ تھا بلکہ ایسی سادگی سے زندگی بسر کرتے کہ دنیا کے بادشاہ اسے دیکھ کر ہی حیران ہو جائیں اور اس پر عمل کرنا تو الگ رہا یورپ کے بادشاہ شاید یہ بھی نہ مان سکیں کہ کوئی ایسا بادشاہ بھی تھا جسے دین کی بادشاہت بھی