سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 399 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 399

سيرة النبي علي جوتیوں سمیت نماز پڑھنا 399 جلد 3 حضرت انس۔سے روایت ہے کہ اَنَّهُ سُئِلَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم يُصَلِّى صلى الله فِي نَعْلَيْهِ قَالَ نَعَمُ 2 یعنی آپ سے سوال کیا گیا کہ کیا نبی کریم ﷺ جوتوں سمیت نماز پڑھ لیا کرتے تھے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں پڑھ لیتے تھے۔اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کس طرح تکلفات سے بچتے تھے۔اب وہ زمانہ آ گیا ہے کہ وہ مسلمان جو ایمان اور اسلام سے بھی ناواقف ہیں اگر کسی کو اپنی جوتیوں سمیت نماز پڑھتے دیکھ لیں تو شور مچا دیں اور جب تک کوئی ان کے خیال کے مطابق کل شرائط کو پورا نہ کرے وہ دیکھ بھی نہیں سکتے۔مگر آنحضرت ﷺ جو ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہیں آپ کا یہ طریق تھا بلکہ آپ واقعات کو دیکھتے تھے نہ تکلفات کے پابند تھے۔اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے طہارت اور پاکیزگی شرط ہے۔اور یہ بات قرآن کریم اور احادیث سے ثابت ہے پس جو جوتی پاک ہو اور عام جگہوں پر جہاں نجاست کے لگنے کا خطرہ ہو پہن کر نہ گئے ہوں تو اس میں ضرورت کے وقت نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں اور آپ نے ایسا کر کے امت محمدیہ پر ایک بہت بڑا احسان کیا کہ انہیں آئندہ کے لئے تکلفات اور بناوٹ سے بچا لیا۔اس اسوہ حسنہ سے ان لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہئے جو آج کل ان باتوں پر جھگڑتے ہیں اور تکلفات کے شیدا ہیں۔جس فعل سے عظمت الہی اور تقویٰ میں فرق نہ آئے اس کے کرنے پر انسان کی بزرگی میں فرق نہیں آسکتا۔بن بلائے دعوت میں آنے والے کے لئے اجازت طلب کرنا حضرت ابو مسعود الانصاری سے روایت ہے قَالَ كَانَ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو شُعَيْبِ وَ كَانَ لَهُ غُلَامٌ لَحَامٌ فَقَالَ اصْنَعُ لِى طَعَامًا اَدْعُو رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَامِسَ خَمْسَةٍ فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ