سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 30

سيرة النبي عمال 30 جلد 3 کہ کسی جلسہ میں مذہبی رسوم کی پابندی بھی کریں یہ امید نہیں کی جاسکتی۔وہ انسانی، علمی اور اخلاقی نقطہ نگاہ سے تو ایسے جلسوں میں شامل ہو سکتے ہیں جو رسول اللہ علے کے متعلق کئے جائیں مگر مذہبی نقطہ نگاہ سے نہیں شامل ہو سکتے۔پس میں نے سمجھا کہ ہند و مسلمانوں میں جو بعد بڑھتا ہندو مسلم اتحاد کی تجویز جاتا ہے اسے روکنے کا یہی طریق ہے کہ ایسے جلسے لئے جائیں جن میں رسول کریم ﷺ کے متعلق مذہبی حیثیت سے جلسہ نہ کیا جائے بلکہ علمی حیثیت سے جلسہ کیا جائے۔اگر لوگ دوسرے مذاہب کے لیڈروں کی خوبیاں دیکھ اور سن سکتے ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبیاں وہ نہ دیکھے سکیں۔ایسے جلسوں میں غیر مسلم لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں اور اس طرح وہ خلیج جو روز بروز بڑھتی جاتی ہے دور ہو سکتی ہے اور ہندو مسلمانوں میں صلح ممکن ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں خود مسلمانوں کو بھی رسول کریم علیہ کے حالات معلوم ہونے سے عقیدت اور اخلاص پیدا ہوسکتا ہے۔پھر دوسرے مذاہب کے لوگ جب آپ کے صحیح حالات صلى الله صلى الله سنیں گے تو وہ ایسے لوگوں کو جو رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیتے ہیں روکیں گے۔تحریک کی کامیابی یہ تحریک خدا کے فضل سے ایسے رنگ میں کامیاب ہوئی ہے کہ جو ہماری امیدوں سے بڑھ کر ہے۔مثلاً کلکتہ میں بڑے۔بڑے لیڈروں نے جیسے پین چندر پال جو گاندھی جی سے پہلے بہت بڑے لیڈر سمجھے جاتے تھے اور سی۔پی رائے وائس چانسلر کلکتہ یونیورسٹی نے ایسے جلسہ کے اعلان میں اپنے نام لکھائے یا لیکچر دینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔اسی طرح اور کئی لیڈروں نے اپنے نام پیش کئے ہیں۔مدراس کے ایک ہندو صاحب نے کئی ضلعوں میں ایسے جلسے کرانے کا ذمہ لیا ہے اور لکھا ہے کہ ہندوستان میں امن قائم کرنے کے لئے یہ بہت قیمتی چیز ہمیں مل گئی ہے۔پھر درخواست کی ہے کہ ہر سال ایسے جلسے ہونے چاہئیں۔اسی طرح تھیو سافیکل سوسائٹی نے مدراس میں جلسہ کرانے کا ذمہ لیا ہے۔پھر لاہور میں