سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 31
سيرة النبي عمال 31 جلد 3 بڑے بڑے آدمیوں نے اس جلسہ کے اعلان پر دستخط کئے ہیں جیسے لالہ دُنی چند صاحب جو بہت بڑے کانگریسی لیڈر ہیں۔پھر سکھوں کے بہت بڑے لیڈر سردار کھڑک سنگھ صاحب نے کہا ہے کہ اگر اس دن میں امرتسر میں ہوا تو وہاں کے جلسہ میں اور اگر سیالکوٹ میں ہوا تو اس جگہ جلسہ میں شامل ہوں گا۔غرض اس تحریک کو مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلم قوموں نے بھی احترام کی نظر سے دیکھا ہے اور نہ صرف احترام کی نظر سے دیکھا ہے بلکہ خواہش کی ہے کہ ایسے جلسے ہمیشہ ہونے چاہئیں تا کہ تفرقہ دور ہو اور میں سمجھتا ہوں اگر اس سال یہ تحریک کامیاب ہوئی تو لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ یہ امن قائم کرنے کے لئے نہایت مفید تحریک ہے۔اور آئندہ ہر قوم اسے زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے کی کوشش کرے گی۔پس اس تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ ہم اس مقصد کو پالیں جو کہ ایک ہی جیسا ہندوؤں کو بھی پیارا ہے اور مسلمانوں کو بھی ہے اور وہ ہندوستان کا امن اور ترقی ہے۔17 جون کے لیکچروں کی بنیاد اس تمہید کے بعد میں اپنے مضمون کی طرف آتا ہوں۔میں نے اس وقت ایک آیت پڑھی ہے جو یہ ہے قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِینَ۔اس آیت میں رسول کریم ﷺ کا وہ دعویٰ پیش کیا گیا ہے جس پر میں نے آج کے لئے لیکچر رکھے ہیں۔آج کے لیکچر کے میں نے تین موضوع قرار دیئے ہیں۔(1) رسول کریم ﷺ کے احسانات (2) رسول کریم ﷺ کی قربانیاں صلى الله (3) رسول کریم ﷺ کا تقدس اس آیت میں یہ تینوں امور ہی بیان کئے گئے ہیں۔گویا یہ ہیڈ نگ (Heading) میں نے اپنے پاس سے نہیں رکھے بلکہ قرآن کریم نے پیش کئے ہیں۔رسول کریم علی