سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 29
سيرة النبي عمال 29 جلد 3 اچھا نہ ہوگا کہ آپ بھی اس جلسہ میں چلیں اور تقریر کریں؟ گو میں نے برہمو سماج کے متعلق کچھ لٹریچر پڑھا ہوا تھا مگر مجھے رام موہن رائے صاحب کی ذات کے متعلق زیادہ واقفیت نہ تھی اس لئے میں حیران سا رہ گیا۔لیکن معاً میرے دل میں خیال آیا کہ خواہ ان کے ذاتی حالات سے کتنی ہی کم واقفیت ہو مگر اس میں کیا شبہ ہے کہ انہوں نے شرک کو مٹانے کی ایک حد تک کوشش کی ہے۔تب میرا انشراح صدر ہو گیا اور میں نے کہا میں اس جلسہ میں آؤں گا۔چنانچہ میں وہاں گیا۔مسٹر الیں۔آر۔داس جو وائسرائے کی کونسل کے قانونی ممبر ہیں وہ اس جلسہ کے پریذیڈنٹ تھے اور بھی بہت سے معزز لوگ وہاں موجود تھے، مسز نائیڈو بھی تھیں، سر حبیب اللہ بھی تھے۔اتفاق ایسا ہوا اور وہاں کی سوسائٹی کے لحاظ سے یہ کوئی عجیب بات نہ تھی کہ سامعین کا اکثر حصہ اردو نہ جانتا تھا۔مسز نائیڈو نے مجھ سے پوچھا کیا آپ انگریزی میں تقریر کریں گے؟ میں نے کہا انگریزی میں تقریر کرنے کی مجھے عادت نہیں۔ولایت میں لکھ کر انگریزی تقریر کرتا رہا۔مگر زبانی مختصراً چند الفاظ کہنے کے سوا باقاعدہ تقریر کا موقع نہیں ملا۔مسٹر نائیڈو نے کہہ دیا اردو میں ہی تقریر کریں۔لیکن چونکہ پریذیڈنٹ صاحب بالکل اردو نہ سمجھتے تھے اور حاضرین میں سے بھی 90 فیصدی بنگالی تھے جو اردو نہ جانتے تھے اس لئے میں نے تقریر نہ کی اور اس وجہ سے تقریر رہ گئی مگر میں تیار تھا۔دراصل کسی کی خوبی کا نظر آنا بینائی پر دلالت کرتا ہے۔اور خوبی کو نہ دیکھ سکنا نا بینائی کی علامت ہوتی ہے اور اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ کسی کی خوبی کا انکار نہ کرو اور دوسرے مذاہب کے جلسه میلاد بزرگوں کی تعظیم و تکریم کرو۔میرے دل میں خیال پیدا ہوا کہ رسول کریم علیہ کے متعلق مسلمانوں میں جلسے ہوتے ہیں مگر وہ خاص مذہبی رنگ کے ہوتے ہیں جیسے مولود کے جلسے۔ان میں غیر مسلموں کے متعلق یہ امید رکھنا کہ وہ شامل ہوں بہت بڑی بات ہے۔ان سے یہ امید تو کی جاسکتی ہے کہ وہ بانی اسلام کی خوبیاں سننے کے لئے آجائیں مگر یہ