سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 374
سيرة النبي علي 374 جلد 3 پہلے تو تم میں ایسے بد تہذیب لوگ نہ تھے اب تمہیں کیا ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا یہ بے وقوف بچہ ہے اسے جانے دیں۔حالانکہ بات یہ تھی کہ انہوں نے قرآن سنا ہوا تھا اور اب ان کے نزدیک شعروں کی کچھ حقیقت ہی نہیں رہ گئی تھی۔بلکہ خود لبید نے مسلمان ہونے پر یہی طریق اختیار کیا۔حضرت عمر نے ایک دفعہ اپنے ایک گورنر کو کہلا بھیجا کہ مجھے بعض مشہور شعراء کا تازہ کلام بھیجو اؤ۔جب ان سے اس خواہش کا اظہار کیا گیا تو انہوں نے قرآن کریم کی چند آیات لکھ کر بھیج دیں۔جب لبید نے دوسرا مصرع پڑھا اور کہا کہ ہر نعمت زائل ہونے والی ہے تو عثمان نے کہا یہ غلط ہے۔جنت کی نعمتیں کبھی زائل نہیں ہوں گی۔یہ سن کر اسے طیش آ گیا اور اس نے اہل مجلس سے کہا کہ تم نے میری بڑی ہتک کرائی ہے۔اس پر ایک شخص نے عثمان کو برا بھلا کہا اور اس زور سے مکا مارا کہ ان کی ایک آنکھ نکل گئی۔ولید کھڑا دیکھ رہا تھا۔اس نے کہا دیکھا! میری پناہ میں سے نکلنے کا یہ نتیجہ ہوا۔اب بھی پناہ میں آ جاؤ۔حضرت عثمان نے کہا پناہ کیسی میری تو دوسری آنکھ بھی انتظار کر رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں نکلے 52۔ان کے فوت ہونے پر رسول کریم ﷺ نے انہیں بوسہ دیا اور آپ کی آنکھوں سے اُس وقت آنسو جاری تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صاحبزادہ ابراہیم فوت ہوا تو آپ نے فرمایا الْحِقُ بِسَلْفِنَا الصَّالِحِ عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونِ 53 یعنی ہمارے صالح الله عزیز عثمان بن مظعون کی صحبت میں جا۔پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب دوسرا دھوئی قرآن کریم کے متعلق یہ کیا گیا ہے کہ یہ پہلی کتب کی پیشگوئیوں کو پورا کرنے والی کتاب ہے۔چنانچہ استثناء باب 18 آیت 15 میں آتا ہے:۔خداوند تیرا خدا تیرے لئے تیرے ہی درمیان سے تیرے ہی بھائیوں میں سے تیری مانند ایک نبی بر پا کرے گا 54۔