سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 373 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 373

سيرة النبي عمال 373 جلد 3 سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ غالب آئیں گے۔وہ غالب کس طرح آ سکتے ہیں جب کہ ہم ان کے جگر گوشے کاٹ کاٹ کر تیرے حوالے کرتے جا رہے ہیں۔اور انہی ابتر کہنے والوں کے بچے اور عزیز اسلام میں داخل ہو کر اس کی صداقت ظاہر کر رہے ہیں اور کفار کو بے اولاد اور آنحضرت ﷺ کو با اولا د ثابت کر رہے ہیں۔چنانچہ مکہ کے بڑے بڑے خاندانوں کے جو بیٹے اور بھتیجے رسول کریم علیہ کو دیئے گئے ان میں حضرت عثمان، حضرت زبیر، حضرت عبد الرحمن بن عوف ، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت طلحہ بن عبید اللہ، حضرت ابو عبیدۃ، حضرت ارقم بن ابی ارقم ، حضرت عثمان بن مظعونؓ اور حضرت سعید بن زید تھے یہ لوگ ابتدا میں ہی ایمان لے آئے تھے۔اور وہ رؤ سا جو رسول کریم ع کو دکھ دینے میں سب سے بڑھے ہوئے تھے یہ ان کے بیٹے اور بھانجے اور بھتیجے تھے۔ان کے مسلمان ہو جانے کی وجہ سے کفار کو اور زیادہ غصہ آتا کہ یہ اپنے باپ دادا کے خلاف کھڑے ہو گئے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تائید کرتے ہیں۔حضرت عثمان بن مظعون، ولید بن مغیرہ کے عزیز تھے اور اس نے ان کو پناہ دی ہوئی تھی۔حضرت عثمان ایک دن باہر جارہے تھے کہ انہوں نے دیکھا کہ ایک مسلمان پر سخت ظلم کیا جا رہا ہے مگر آپ کو کسی نے کچھ نہ کہا۔انہوں نے ولید کے پاس جا کر کہا کہ میں اب آپ کی پناہ میں نہیں رہنا چاہتا کیونکہ میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ دوسرے مسلمانوں کو تو اس طرح دکھ دیا جائے اور میں آپ کی پناہ میں محفوظ رہوں۔اللہ تعالٰی مومن کے ایمان کی آزمائش کرتا ہے۔ادھر انہوں نے پناہ ترک کی اور ادھر یہ حادثہ پیش آ گیا کہ لبید جو ایک بہت بڑے شاعر تھے ایک مجلس میں شعر سنا رہے تھے کہ ایک شعر انہوں نے پڑھا جس کا مطلب یہ تھا کہ ہر چیز خدا کے سوا تباہ ہونے والی ہے اور ہر نعمت آخر میں زائل ہونے والی ہے۔جب لبید نے پہلا مصرع پڑھا تو حضرت عثمان نے کہا ٹھیک ہے۔اس پر لبید نے غصہ سے اس کی طرف دیکھا کہ ایک بچہ میرے کلام کی داد دے رہا ہے۔اسے اس نے اپنی ہتک سمجھا اور کہا اے مکہ والو !