سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 375 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 375

سيرة النبي علي 375 جلد 3 اس میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی کہ وہ نبی جو آنے والا ہے وہ بنی اسرائیل میں سے نہیں ہوگا بلکہ ان کے بھائیوں یعنی بنی اسماعیل میں سے ہوگا گویا وہ اولا دابراہیم علیہ السلام میں سے ہی ہوگا نہ کہ کسی غیر قوم سے۔پھر اس کی علامت یہ بتائی کہ:۔” جب وہ نبی خداوند کے نام سے کچھ کہے اور وہ جو اس نے کہا ہے واقعہ نہ ہو یا پورا نہ ہو تو وہ بات خداوند نے نہیں کہی 55۔اب دیکھو قرآن کی باتیں کیسی پوری ہوئیں اور اس کی بیان کردہ پیشگوئیاں کس صلى اللهم طرح کچی نکلیں۔کفار نے جب رسول کریم ﷺ کے متعلق کہا کہ اس کی اولاد نہیں تو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہم اسے اولاد دیں گے اور ابتر کہنے والوں کی اولاد ہی چھین کر دے دیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور یہ پیشگوئی بڑی شان سے پوری ہوئی۔حضرت مسیح نے اس پیشگوئی کا مصداق ہونے سے انکار کیا ہے۔چنانچہ یوحنا باب 1 آیت 21 میں لکھا ہے:۔انہوں نے اس سے پوچھا پھر کون ہے؟ کیا تو ایلیاہ ہے؟ اس نے کہا میں نہیں ہوں۔کیا تو وہ نبی ہے؟ اس نے جواب دیا کہ نہیں۔“ اسی طرح اعمال باب 3 میں لکھا ہے کہ وہ نبی مسیح کی بعثت ثانی سے پہلے اور بعثت اول کے بعد ظاہر ہوگا۔بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ:۔سموئیل سے لے کر پچھلوں تک جتنے نبیوں نے باتیں کیں ان سب نے ان 66 صلى دنوں کی خبر دی ہے 56۔یہ پیشگوئی رسول کریم ﷺ کے ذریعہ پوری ہوئی۔کیونکہ آپ ان کے بھائیوں یعنی حضرت ابراہیم کے بیٹے حضرت اسماعیل کی اولاد میں سے تھے۔اسی طرح یسعیاہ آنے والے نبی کی خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں :۔تب قومیں تیری راستبازی اور سارے بادشاہ تیری شوکت دیکھیں گے اور تو