سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 27
سيرة النبي علي 27 27 دنیا کا محسن الله 1927ء میں ہندوؤں کی طرف سے ”رنگیلا رسول“ کتاب اور رسالہ ورتمان شائع کر کے رسول کریم علیہ کی شان اقدس میں گستاخی کی انتہا کی گئی۔جن کے جواب میں حضرت مصلح موعود نے مسلمانوں کی کئی طریقوں سے راہنمائی فرمائی۔ان اہم امور میں یہ بات بھی شامل تھی کہ ملک بھر میں رسول کریم ﷺ کی سیرت کے حوالہ سے جلسے منعقد کئے جائیں جن میں مسلم اور غیر مسلم مقررین ایک دن تقاریر کریں۔چنانچہ 17 جون 1928ء کو ملک بھر میں جلسہ ہائے سیرۃ النبی ہوئے۔17 جون کو قادیان میں بھی ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا جس سے حضرت مصلح موعود نے درج ذیل خطاب فرمایا :۔أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَ بِذلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ 1 - جلسہ کی غرض آج کا جلسہ اس غرض کے لئے منعقد کیا گیا ہے کہ ہمارے ملک میں وہ رواداری اور وہ ایک دوسرے کے احساسات کا ادب و احترام پیدا ہو جس کے بغیر نہ خدا مل سکتا ہے اور نہ دنیا میں امن قائم ہوسکتا ہے۔ہمیں جو تعلیم دی گئی ہے وہ یہ ہے کہ ہم تمام ادیان کے بزرگوں اور ہادیوں کا ادب و احترام جلد 3