سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 28 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 28

سيرة النبي عمال 28 جلد 3 کریں۔تمام وہ لوگ جن کو ان کی قومیں خدا کی طرف سے کھڑا کیا گیا تسلیم کرتی ہیں۔تمام وہ لوگ جن کے متبعین کی جماعتیں پائی جاتی ہیں جو انہیں خدا کا مرسل اور ما مور، اوتار یا بھیجا ہوا تسلیم کرتی ہیں ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کی عزت کریں۔ان کی ہتک سے اجتناب کریں اور اس تعلیم کے ماتحت ہم ہمیشہ ہی مختلف اقوام کے بزرگوں اور ان کے مذہب کے بانیوں کا ادب و احترام کرتے رہے ہیں۔ہم یہودیوں کے بزرگوں کا ادب کرتے ہیں۔ہم عیسائیوں کے بزرگوں کا احترام کرتے ہیں۔ہم چینیوں کے بزرگوں کو احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ہم جاپانیوں کے بزرگوں کا ادب کرتے اور ہم اپنے ابنائے وطن ہندؤوں کے بزرگوں کی تعظیم کرتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے حکم کے ماتحت کرتے ہیں اپنی کسی نفسانیت کی وجہ سے نہیں کرتے ، کسی ذاتی فائدہ اور غرض کے لئے نہیں کرتے بلکہ واقعہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے اور دنیا کے لئے مامور سمجھ کر کرتے ہیں۔اور ہم سمجھتے ہیں دنیا کی ہر قوم اور ہر مذہب کے لوگ جب سنجیدگی سے اس مسئلہ پر غور کریں گے تو انہیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا کا قیام خواہ روحانی لحاظ سے ہو اور خواہ جسمانی لحاظ سے اسی پر ہے کہ اپنے خیالات اور اپنی زبانوں پر قابو رکھا جائے اور ایسے رنگ میں کلام کیا جائے کہ تفرقہ اور شقاق نہ پیدا ہو۔شملہ میں برہمو سماج کا جلسہ میں پچھلے سال شملہ گیا۔ان دنوں رام موہن رائے صاحب جو کہ کلکتہ کے بہت بڑے آدمیوں میں سے گزرے ہیں ان کی برسی تھی اور شملہ میں برہمو سماج کی طرف سے جلسہ ہونا تھا۔مسٹر نائیڈ وے جو کہ ایک ہندو عورت لیڈر ہیں بڑی بھاری شاعرہ ہیں اور گاندھی جی کی طرح ہندو مسلمانوں میں ادب و احترام کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں اور بہت اثر رکھنے والی ہستی ہیں وہ مجھے ملنے کے لئے آئیں۔انہوں نے ذکر کیا کہ رام موہن رائے کی برسی کا دن ہے اور برہمو سماج نے جلسہ کیا ہے۔کیا یہ