سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 357 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 357

سيرة النبي علي 357 جلد 3 یہ ہے کہ بحیرہ کو مسیحی لوگ سرگیس (Sergius) کہا کرتے تھے اور Sergius نامی ایک پادری کا پتہ مسیحی کتب میں مل جاتا ہے۔پس اب وہ کہتے ہیں کہ اس شخص سے سیکھ کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے نعوذ باللہ قرآن بنا لیا۔سیل (Sale) اس خیال کو رد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بحیرہ کا مکہ جانا ثابت نہیں اور یہ خیال کہ آپ نے جوانی میں دعویٰ سے بہت پہلے بحیرہ سے قرآن سیکھا ہو عقل کے خلاف ہے۔ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ اس سے مسیحیت کا کچھ علم سیکھا ہو۔و ہیری ان روایتوں سے خوش ہو کر کہتا ہے کہ خواہ ناموں میں اختلاف ہی ہو لیکن یہ روایت اتنی کثرت سے آتی ہے کہ اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے پاس بعض مسیحی اور یہودی آتے تھے اور یہ کہ انہوں نے ان کی گفتگو سے خاص طور پر فائدہ اٹھایا اور جواب کی کمزوری بتاتی ہے کہ کچھ دال میں کالا کالا ضرور ہے ورنہ یہ کیا جواب ہوا کہ اس کی زبان انجمی ہے۔ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بنا دیتا ہو اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے عربی میں ڈھال لیتے ہوں (وہ اپنے اس خیال کی تصدیق میں آرنلڈ کو بھی پیش کرتا ہے ) اس کے بعد ا۔وہ لکھتا ہے :۔"It is because of this that we do not hesitate to reiterate the old charge of deliberate imposture۔" 31 یعنی ہم یہ پرانا الزام دہراتے ہوئے اپنے دل میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے جان بوجھ کر جھوٹ بنایا۔اوپر کے مضمون سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کفار مکہ اس اعتراض کو خاص اہمیت دیتے تھے اور ان کے وارث مسیحیوں نے اس اہمیت کو اب تک قائم رکھا ہے۔میں پہلے مسیحیوں کے اعتراضات کو لیتا ہوں اور اس شخص کو جواب میں پیش کرتا ہوں جسے عیسائی خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔حضرت مسیح پر یہ اعتراض ہوا تھا کہ ان کے ساتھ شیطان کا