سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 358
سيرة النبي عليه 358 جلد 3 تعلق ہے اور دیوؤں کو اس کی مدد سے نکالتے ہیں۔چنانچہ لکھا ہے :۔وو پھر وہ ایک گونگی بدروح کو نکال رہا تھا اور جب وہ بدروح اتر گئی تو ایسا ہوا کہ گونگا بولا اور لوگوں نے تعجب کیا۔لیکن ان میں سے بعض نے کہا یہ تو بدروحوں کے سردار بعل زبول کی مدد سے بدروحوں کو نکالتا ہے۔بعض اور لوگ آزمائش کے لئے اس سے ایک آسمانی نشان طلب کرنے لگے مگر اس نے ان کے خیالوں کو جان کران سے کہا کہ جس کسی بادشاہت میں پھوٹ پڑے وہ ویران ہو جاتی ہے اور جس گھر میں پھوٹ پڑے وہ برباد ہو جاتا ہے۔اور اگر شیطان بھی اپنا مخالف ہو جائے تو اس کی بادشاہت کس طرح قائم رہے گی۔کیونکہ تم میری بابت کہتے ہو کہ یہ بدروحوں کو 66 بعل زبول کی مدد سے نکالتا ہے 32۔یہاں حضرت مسیح نے ایک قانون پیش کیا ہے۔جب ان کے متعلق کہا گیا کہ وہ شیطان کو شیطان کی مدد سے نکالتے ہیں تو انہوں نے کہا شیطان شیطان کو کیوں نکالے گا ؟ اس قانون کے ماتحت غور کر لو کہ کیا قرآن کسی یہودی یا عیسائی کا بنایا ہوا نظر آتا ہے؟ اگر کسی عیسائی کا بنایا ہوا ہوتا تو عیسائیت کے رد سے کس طرح بھرا ہوا ہوتا ؟ اور اگر کسی یہودی نے بنایا ہوتا تو اس میں یہودیت کا کس طرح رد ہوتا ؟ عیسائیت کا کوئی فرقہ بتا دو اس کا رد قرآن سے دکھا دیا جائے گا۔اسی طرح کوئی یہودی فرقہ پیش کرو اس کا رد قرآن میں موجود ہے۔کیا کوئی خیال کر سکتا ہے کہ کوئی عیسائی اور یہودی اپنے مذہب کی آپ تردید کرے گا؟ قرآن پورے طور عیسائیت کو رد کرتا ہے۔ہم دور نہیں جاتے پہلی سورۃ میں ہی قرآن نے عیسائیت کی جڑیں اکھیڑ کر رکھ دی ہیں۔پہلی سورۃ جو رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی یہ ہے صلى الله اقْرَأْ بِاسْمِ رَبَّكَ الَّذِي خَلَقَ خَلَقَ الْإِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ الَّذِى عَلَّمَ بِالْقَلَمِ عَلَّمَ الْإِنْسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمُ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى اَنْ رَّاهُ اسْتَغْنَى إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعُى أَرَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا