سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 356
سيرة النبي علي 356 جلد 3 اہمیت دی جاتی ہے اس لئے میں کسی قدر تفصیل سے اس کا جواب بیان کرتا ہوں۔مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ اسے بشر سکھاتا ہے اس بشر سے مراد جبر 29 رومی غلام تھا جو عامر بن حضرمی کا غلام تھا۔اس نے تو رات اور انجیل پڑھی ہوئی تھی۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ تکلیف دینے لگے تو آپ اس کے پاس جا کر بیٹھا کرتے تھے۔اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔دوسری روایتوں میں آتا ہے کہ فرا اور زجاج کہتے ہیں کہ حویطب ابن عبد العزیٰ کا ایک غلام عائش یا یعیش نامی پہلی کتب پڑھا کرتا تھا۔بعد میں پختہ مسلمان ہو گیا اور رسول کریم ﷺ کی مجلس میں آتا تھا۔اس کی نسبت لوگ یہ الزام لگاتے تھے۔مقاتل اور ابن جبیر کا قول ہے کہ ابوفکیہ پر لوگ شبہ کرتے تھے ان کا نام لیا تھا۔مذہبا یہودی تھے اور مکہ کی ایک عورت کے غلام تھے۔بہتی اور آدم بن ابی ایاس نے عبداللہ بن مسلم الحضر می سے روایت کہ ت لکھی ہے کہ ہمارے دو غلام بیار اور جبر نامی تھے دونوں نصرانی تھے اور عین التجر کے رہنے والے تھے۔دونوں لوہار تھے اور تلوار میں بنایا کرتے تھے اور کام کرتے ہوئے انجیل پڑھا کرتے تھے۔رسول کریم ﷺ وہاں سے گزرتے تو ان کے پاس ٹھہر جاتے۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان میں سے ایک غلام سے لوگوں نے پوچھا کہ إِنَّكَ تُعَلَّمُ مُحَمَّدًا فَقَالَ لَا هُوَ يُعَلِّمُنِی۔کیا تم محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو سکھاتے ہو؟ اس نے کہا میں نہیں سکھاتا بلکہ وہ مجھے سکھاتا ہے۔ابن عباس سے روایت ہے کہ ایک انجمی رومی غلام مکہ میں تھا اس کا نام بلعام تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اسلام سکھایا کرتے تھے۔اس پر قریش کہنے لگے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو سکھاتا ہے 30 مسیحی مورخ لکھتے ہیں کہ غالباً آپ نے بحیرہ راہب سے سیکھا تھا۔چونکہ مسیحی تاریخوں میں بحیرہ کا کہیں پتہ نہیں ملتا اس وجہ سے ابتداء تو وہ اس کے وجود سے ہی منکر تھے لیکن اب مسعودی کی ایک روایت کی وجہ سے وہ اس کو تسلیم کرنے لگے ہیں اور اس اعتراض کے رنگ میں اس سے فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔وہ روایت