سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 346 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 346

سيرة النبي متر 346 جلد 3 یہ دیتا ہے کہ لَقَدْ اَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ كِتَبَّا فِيْهِ ذِكْرُكُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ 11 جن لوگوں کو أَضْغَاتُ اَخلاءِ ہوتی ہیں کیا ان کی خوابوں میں قومی ترقی کا بھی سامان ہوتا ہے؟ پراگندہ خواب تو پراگندہ نتائج ہی پیدا کر سکتی ہے مگر اس پر تو وہ کتاب نازل کی گئی ہے جو تمہارے لئے عزت اور شرف کا موجب ہے۔کیا دماغ کی خرابی سے ایسی ہی تعلیم حاصل ہوتی ہے؟ تم اپنے آپ کو عقلمند کہتے ہو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟ تیسرا اعتراض پھر بعض اور لوگوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ هذا سحر 12 کہ یہ جادو گر ہے۔سحر کے معنی عربی زبان میں جھوٹ کے بھی الله ہوتے ہیں۔مگر مخالفین نے رسول کریم ﷺ کو الگ بھی جھوٹا کہا ہے اس لئے اگر اس کے معنی جھوٹ کے ہوں تو اس کا جواب علیحدہ ہوگا۔دوسرے معنی سحر کے یہ ہوتے ہیں کہ باطن میں کچھ اور ہو اور ظاہری شکل میں کچھ اور دکھائی دے۔اللہ تعالیٰ اس کے جواب میں فرماتا ہے وَاِنْ يَّرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ 13 اگر یہ لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا کوئی نشان دیکھتے ہیں تو اعراض کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہم ان باتوں کو خوب سمجھتے ہیں۔یہ بڑا پرانا جادو ہے۔آگے فرماتا ہے حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ 14 قرآن میں تو حکمت بالغہ ہے۔قرآن میں ایسے مضامین ہیں جو دلوں میں تبدیلی پیدا کرنے والے ہیں۔سحر کے معنی تو یہ ہیں کہ ظاہر کو مسخ کر دیا جائے اور باطن آزاد ر ہے۔مگر قرآن کا اثر تو یہ ہے کہ ظاہر کی بجائے دلوں کو بدلتا ہے اس لئے اسے سحر نہیں کہہ سکتے۔یہ حکمت بالغہ ہے یعنی حکمت کی ایسی باتیں ہیں جو دور تک اثر کرنے والی ہیں۔یہ اندرونی جذبات اور افکار پر اثر ڈالتی ہیں مگر ان لوگوں کو یہ انذار فائدہ نہیں دیتا۔چوتھا اعتراض پھر بعض نے کہا کہ یہ ساحر تو معلوم نہیں ہوتا ہاں مسحور ضرور ہے۔یعنی خود تو بڑا اچھا ہے لیکن کسی نے اس پر سحر کر دیا ہے اس لئے یہ ایسی باتیں کہتا پھرتا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالَ الظَّلِمُونَ إِنْ تَتَّبِعُونَ