سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 347
سيرة النبي مله 347 جلد 3 إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا 15 یعنی ظالم لوگ یہ کہتے ہیں کہ مسلمان ایک مسحور کی اتباع کر رہے ہیں۔کسی نے اس پر جادو کر دیا ہے جس کی وجہ سے اس کی عقل ماری گئی ہے۔اس آیت سے پہلے ملائکہ کے نزول کے متعلق معترضین کا مطالبہ ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ملائکہ نازل ہوتے ہیں اور خزانے عطا کرتے ہیں ( ملائکہ سے الہام اور خزانے سے معارف قرآن مراد تھے ) تو مخالفین نے کہا کہ دیکھو اسے جو ملائکہ نظر آتے ہیں اس کی وجہ یہی ہے کہ یہ مسحور ہے۔فرشتے ہمیں نہیں نظر آتے ، خزانے ہمیں نہیں دکھائی دیتے مگر یہ کہتا ہے کہ مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں اور خزانے مل رہے ہیں، کہاں ملے ہیں؟ یہ سحر کا ہی اثر ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے۔اسی طرح اور بہت سے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَاءَنَا لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَيْكَةُ أَوْ نَرَى رَبَّنَا لَقَدِ اسْتَكْبَرُوا فِى أَنْفُسِهِمْ وَعَتَوْ عُدُّوا كَبِيرًا يَوْمَ يَرَوْنَ الْمَلبِكَةَ لَا بُشْرَى يَوْمَبِذٍ لِلْمُجْرِمِينَ وَيَقُولُونَ حِجْرًا مَّحْجُورًا - وَقَدِمْنَا إلى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْتُهُ هَبَاءَ مَّنْثُورًا - اَصْحَبُ الْجَنَّةِ يَوْمَذٍ خَيْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَ اَحْسَنُ مَقِيلًا - وَ يَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَاءُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلَيْكَةُ تَنْزِيلًا - اَلْمُلْكُ يَوْمَهِذِهِ الْحَقُّ لِلرَّحْمَنِ وَكَانَ يَوْمًا عَلَى الْكَفِرِيْنَ عَسِيرًا 16 یعنی یہ نادان کہتے ہیں کہ یہ مسحور ہے اور ثبوت یہ پیش کرتے ہیں کہ ہمیں کیوں فرشتے نظر نہیں آتے۔ہمیں کیوں خزانے دکھائی نہیں دیتے۔لَوْلَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا الْمَلَبِكَةُ ہم پر وہ فرشتے کیوں نہیں اترتے جن کے متعلق یہ کہتا ہے کہ مجھ پر اترتے ہیں۔اَوْنَرٰی رَبَّنَا یا یہ کہتا ہے کہ میں اپنے رب کو دیکھتا ہوں ہمیں وہ کیوں نظر نہیں آتا۔یہ جاہل خیال کرتے ہیں کہ ہمیں چونکہ یہ چیزیں نظر نہیں آتیں اس لئے یہ جو ان کے دیکھنے کا دعویٰ کرتا ہے تو مسحور ہے۔مگر یہ اپنے نفسوں کو نہیں دیکھتے۔کیا ایسے گندوں کو خدا نظر آ سکتا ہے؟ انہوں نے بڑی سرکشی سے کام لیا ہے۔