سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 345

سيرة النبي علي 345 جلد 3 پاگل کہتے ہیں یہی ثبوت ہے اس بات کا کہ تو پاگل نہیں ہے اور آئندہ آنے والوں کے لئے یہ ثبوت ہے کہ یہ پاگل کہنے والوں کے متعلق تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ان کے برا بھلا کہنے پر چپ رہو۔کیا ایسا بھی کوئی پاگل ہوتا ہے جو صرف آپ ہی پاگل کہنے والوں کے مقابلہ میں اپنے جوش کو نہ دبائے بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی یہ ہدایت کر جائے کہ مخالفوں کو برا بھلا نہ کہنا ؟ فَسَتُبْصِرُ وَيُبْصِرُونَ پس عنقریب تو بھی دیکھ لے گا اور وہ بھی دیکھ لیں گے کہ باتِكُمُ الْمَفْتُونُ تم دونوں میں سے کون گمراہ ہے۔اس دلیل میں اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ پاگل کو کبھی خدائی مدد نہیں ملتی۔محمد رسول اللہ صلی اللہ لیہ وسلم خدا تعالیٰ کی مدد سے کامیاب ہو رہے ہیں پھر ان کو پاگل کس طرح قرار دیا جاسکتا ہے۔دوسرا اعتراض دو برا اعتراض رسول کریم ہی ہے پر اس حالت میں کیا گیا جب ﷺ مخالفین نے دیکھا کہ پاگل کہنے پر عقلمند لوگ خود ہمیں پاگل کہیں گے۔جب وہ یہ دیکھیں گے کہ جسے پاگل کہتے ہیں اس نے تو نہ کسی کو مارا ہے نہ پیٹا بلکہ نہایت اعلیٰ درجہ کے اخلاق دکھائے ہیں۔پس انہوں نے سوچا کہ کوئی اور بات بناؤ۔اس پر انہوں نے کہا اسے پریشان خوا میں آتی ہیں اور ان کی وجہ سے دعوی کر بیٹھا ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَاءِ 10 کہتے ہیں اس کا کلام أَضْغَاثُ أَخْلَامٍ ہے کچھ مشتبہ کسی خوابیں ہیں جو اسے آتی ہیں۔یعنی آدمی تو اچھا ہے، اس کی بعض باتیں پوری بھی ہو جاتی ہیں لیکن بعض بری باتیں بھی اسے دکھائی دیتی ہیں۔جنون اور أَضْغَاتُ اَحْلَامِ میں یہ فرق ہے کہ جنون میں بیداری میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے لیکن أَضْغَاتُ میں نیند میں دماغی نقص پیدا ہو جاتا ہے۔چونکہ مخالفین دیکھتے تھے کہ رسول کریم ﷺ کے معاملات میں کوئی نقص نہیں اس لئے کہتے کہ جنون سے مراد ظاہری جنون نہیں بلکہ خواب میں اسے ایسی باتیں نظر آتی ہیں۔اس کا جواب قرآن کریم