سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 329
سيرة النبي م 329 جلد 3 زکوۃ وغیرہ سب کیلئے Alternatives رکھے ہیں۔صدقہ اور جہاد وغیرہ احکامات کے بغیر بھی انسان خدا تعالیٰ کو راضی کر سکتا ہے۔ایک دفعہ آپ جہاد پر جا رہے تھے اور فرمایا بعض لوگ ایسے ہیں جو اگر چہ ہمارے ساتھ نہیں ہیں مگر ہم کسی وادی میں نہیں ہوتے مگر وہ ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور وہ ثواب میں برابر ہمارے شریک ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ تکالیف ہم اٹھائیں اور وہ ثواب میں ہمارے شریک ہو جائیں۔آپ نے فرمایا یہ وہ لولے لنگڑے، اندھے اور معذور لوگ ہیں جو عدم شمولیت کی وجہ سے دلوں میں بے حد ملول ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں ثواب سے محروم نہیں رکھنا چاہتا 34۔غرض آپ کی تعلیم میں ہر انسان اور اس کی ہر حالت کا علاج موجود ہے۔یہ نہیں کہ خواہ کیسی مصیبت ہوا ایک خاص اصول کی پیروی ضروری ہے بلکہ اصل یہ ہے کہ انسان کی نجات مقصود ہے۔پانچویں بات یہ فرمائی بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِیم دنیا میں ایک مرض یہ ہے کہ جب کوئی شخص دنیا پر یا کسی خاص قوم پر کوئی احسان کرتا ہے تو پھر وہ توقع رکھتا ہے کہ لوگ میرا شکر یہ ادا کریں ، میری قدر کریں اور کہیں کہ آپ نے بڑا احسان کیا۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بجائے ایسی امید اور توقع کے یہ رسول جو لوگ اس کی بات مانتے ہیں یہ خود ان کی خدمت کرتا ہے، احسان کر کے خود ممنون ہوتا ہے،شکر کے مواقع پیدا کر کے خود مشکور ہوتا ہے اور اس مقام پر وہی شخص کھڑا ہوسکتا ہے جو خود بڑائی کی خواہش نہ رکھتا ہو بلکہ رسول ہو اور خدا کی طرف سے مجبور کر کے اس مقام پر کھڑا کیا گیا ہو۔افسوس ہے کہ اس وقت میں زیادہ تفصیل سے نہیں بول سکتا کیونکہ ایک تو کمزوری محسوس ہونے لگی ہے اور دوسرے میں دیکھتا ہوں دھوپ بھی زرد ہوتی جارہی ہے اور وقت زیادہ ہو گیا ہے۔پھر کئی ایک باتیں میں بیان کر چکا ہوں اور میرا خیال ہے کئی لوگ اس پر مزید غور کر کے اور نکات بھی نکال سکتے ہیں۔اگر کسی کے دل میں یہ