سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 328
سيرة النبي عمال 328 جلد 3 ہے۔دنیا میں عام دستور ہے کہ لوگ ایک اصول کو پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں یہ نہیں دیکھتے کہ دوسروں کو اس سے فائدہ ہوگا یا نقصان۔آج کل طبیب لوگ ڈاکٹروں کی تحقیر کرتے ہیں اور ڈاکٹر اطبا کی مذمت، ہومیو پیتھک والے ایلوپیتھی کو برا کہتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ جب خدا نے بعض چیزوں میں ایسی خصوصیات رکھی ہیں کہ ذراسی دوا سے فائدہ ہو جائے تو یہ لوگ انسان کے دشمن ہیں جو اتنی بڑی بڑی Doses دیتے ہیں انہوں نے دنیا کی صحت کا ستیا ناس کر دیا ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ خدا تعالیٰ نے سب چیزوں میں فوائد رکھے ہیں۔لالہ لاجپت رائے کی صحت خراب تھی۔انہوں نے بڑے بڑے ڈاکٹروں سے علاج کرایا کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر حکیم نابینا صاحب سے علاج کرایا اور انہیں شفا ہو گئی۔اسی طرح ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کو پتھری تھی۔انہیں بھی ڈاکٹروں کے علاج سے صحت نہ ہوئی اور حکیم نابینا صاحب کے علاج سے وہ صحت یاب ہو گئے۔پھر بعض مریض ایسے ہیں کہ طبیب سالہا سال علاج کرتے رہے مگر آرام نہ ہوا اور ڈاکٹری علاج سے دنوں میں فائدہ ہو گیا۔اگر انسان کی زندگی کی قدر ان لوگوں کے مدنظر ہوتی تو چاہئے تھا اپنے اپنے اصل کے ہی پیچھے نہ پڑے رہتے بلکہ اگر ڈاکٹری علاج میں کوئی کوتاہی ہوتی تو ڈاکٹر خود کہہ دیتا کسی طبیب سے بھی مشورہ کر لو اور طبیب ڈاکٹر کے پاس جانے کی رائے دیتا لیکن حالت یہ ہے کہ مریض خواہ مر جائے ہر ایک اپنی سائنس کو ہی برتر ثابت کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ ہے کہ بندوں کا فائدہ ہو۔یہ نہیں کہ کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کا حکم ہے تو خواہ ٹانگیں سوکھ جائیں ضرور کھڑے ہی ہو کر پڑھو بلکہ بیٹھ کر بلکہ ضرورت کے وقت لیٹ کر بھی پڑھ سکتے ہو۔پھر یہ نہیں کہ ضرور سال میں پچاس روپیہ صدقہ کرو۔اگر نہیں تو چھپیں ہیں، پندرہ، دس جس قدر توفیق ہو کر سکتے ہو۔اگر بالکل توفیق نہ ہو تو دل کی نیکی ہی کافی ہے۔غرضیکہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ تم بھی بدل سکتے ہو۔میں اس وقت تفصیلات چھوڑتا ہوں۔آپ نے روزہ، حج، صلى الله