سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 326

سيرة النبي علي 326 جلد 3 میں کس طرح مٹا سکتا ہوں۔آپ نے اپنے ہاتھ سے یہ الفاظ کاٹ دیئے 27۔حالانکہ صاف بات تھی آپ کہہ سکتے تھے کہ یہ میرے دستخط ہیں تمہارے تو نہیں مگر آپ نے دوسروں کے احساسات کا پورا پورا لحاظ رکھا اور ہر حالت میں صلح کر لی۔آپ جس وقت مبعوث ہوئے اس وقت دنیا میں غلام، عورت اور Depressed Classes ان تینوں پر سخت ظلم ہوتا تھا۔آپ نے سب کو آزادی بخشی۔آپ چونکہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّم تھے اس لئے اس ظلم اور تعدی کو برداشت نہ کر سکے اور جب تک سب کو آزاد نہ کیا آپ کو چین نہیں آیا۔اس زمانہ میں جبکہ غلام کو جان سے بھی مار دیا جاتا تو کوئی ظلم نہ سمجھا جاتا تھا آپ نے حکم دیا کہ جو شخص کسی غلام کو مارے گا تو اس کا غلام آزاد سمجھا جائے گا۔پھر فرمایا جیسا خود کھاؤ ان کو کھلاؤ اور جیسا خود پہنو ان کو پہناؤ۔وہ کام ان سے نہ لو جو خود کرنا پسند نہ کرتے ہو مثلاً چوہڑوں وغیرہ کا کام اور جو کام انہیں دو اس میں ان کی مدد کرو۔اور اس طرح وہ تمام تکالیف جو غلاموں کو تھیں آپ نے دور کر دیں۔پھر غلاموں کے متعلق فرمایا إِمَّا مَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءَ 28 یعنی یا تو انہیں بطور احسان چھوڑ دو یا تاوان وصول کر کے چھوڑ دو۔غلامی صرف جنگی قیدی کی صورت میں جائز رکھی اور دنیا میں کون ہے جو جنگی قیدی کو بغیر تاوان لئے چھوڑ دے۔آپ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ ساری عمر کے لئے کسی کو غلام رکھنا قطعاً نا جائز ہے۔اس وقت تک رکھ سکتے ہو کہ جب تک وہ تاوان ادا نہ کرے اور یا اسے بطور احسان نہ چھوڑ دو۔اور جنگی قیدی بنا لینے کا حکم دینے کی وجہ سے اسلام پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ - اگر سزا نہ رکھی جائے تو ایک قوم یا خود مٹ جاوے گی یا دوسرے اسے مٹا دیں گے۔پھر عورتیں فروخت کر دی جاتی تھیں، انہیں بطور ورثہ تقسیم کیا جاتا تھا، لڑکیاں زندہ درگور کر دی جاتی تھیں ، عورتوں کو بیحد ذلیل اور بے عزت سمجھا جاتا تھا مگر آپ نے فرمایا خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لاهله 29 اور اس طرح عورتوں پر تمام مظالم کا انسداد کر دیا۔تفصیلات میں اس وقت بیان نہیں کر سکتا یہ اصولی تعلیم ہے۔لڑکیوں کے متعلق