سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 327 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 327

سيرة النبي علي 327 جلد 3 فرمایا جس کے پاس دولڑکیاں ہوں اور وہ ان کی اچھی تربیت کرے، انہیں اعلیٰ اخلاق سکھائے ، لکھائے ، پڑھائے اس کا گھر جنت میں ہو گا 30 ماؤں کے متعلق حکم دیا کہ انہیں اف تک نہ کہو 31 بہنوں کو وراث بنایا۔گویا عورتوں کی تکلیف بھی آپ سے نہ دیکھی گئی اور ان کو بھی آزادی دی۔تیسری Depressed Classes جو ہیں ان کے متعلق فرمایا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ اَنْفُكُمْ 32 یہ مت خیال کرو کہ فلاں اعلیٰ و فلاں ادنی ہے۔خدا کے نزدیک مکرم وہی ہے جو زیادہ متقی ہو۔ان غریبوں کو جو مظالم کے پنجوں میں پھنسے ہوئے تھے یہ کہہ کر اٹھایا کہ خدا کے نزدیک معزز و مکرم وہی ہے جس کے اخلاق اعلیٰ ہوں اور جو تقویٰ میں بڑھا ہوا ہو۔غور کرو! کتنا عظیم الشان اعلان ہے۔چند ایک جملے ہیں مگر تمام پست اقوام کو پستی سے نکال کر بلند ترین مقام پر کھڑا ہونے کا موقع بہم پہنچا دیا ہے۔آج بھی ان اقوام سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص یہاں موجود ہو تو میں اسے کہوں گا کہ تمہاری تکلیف بھی محمد رسول اللہ ﷺ سے نہ دیکھی گئی اور آپ کا دل دکھا اور آپ نے تمہاری آزادی کا اعلان بھی کر دیا۔بعض اقوام قابلیت کے لحاظ سے اپنے آپ کو اعلیٰ سمجھتی ہیں اور دوسروں کو اپنے سے ادنیٰ و حقیر۔مثلاً آج کل امریکہ والے اپنے آپ کو Superman سمجھتے ہیں۔آپ نے اس تکلیف سے بھی روکنے کا انتظام کیا اور فرمایا لَا يَسْخَرْ قَوْمٌ مِنْ قَوْمٍ عَسَى أَنْ يَكُوْنُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ 33 یعنی کوئی قوم اپنی ترقی کی وجہ سے دوسری کو کمتر نہ سمجھے بالکل ممکن ہے کل وہ گر جائے اور دوسری بڑھ جائے کیونکہ یہ سلسلہ دنیا میں ہمیشہ جاری ہے۔آج کوئی قوم ترقی کرتی ہے اور کل کوئی۔اس لئے ایک دوسرے کو عزت کی نگاہ سے دیکھو۔غرض ایسی اعلیٰ درجہ کی مساوات قائم کی کہ دنیا جس ذلت میں پڑی تھی اس سے اسے چھڑا دیا اور یہ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ کی صفت کا ظہور ہے۔چوتھی بات آپ کے متعلق یہ فرمائی کہ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ زبر دست امتیاز