سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 325
سيرة النبي علي 325 جلد 3 دیکھنا چاہتا ہے۔میں بتاتا ہوں کہ کس طرح غیر قوموں کی تکلیف کے متعلق بھی آپ کو خیال رہتا تھا اور اس طرح اپنوں کو اخلاق کے بلند مقام پر آپ دیکھنا چاہتے تھے۔ایک دفعہ ایک یہودی سے حضرت ابوبکر کی گفتگو ہو رہی تھی۔اس نے حضرت موسی کو صلى الله آنحضرت ﷺ پر فضیلت دی اور آپ نے اسے تھپڑ مار دیا۔وہ شکایت لے کر آنحضرت ﷺ کے پاس آیا۔آپ نے حضرت ابوبکر سے فرمایا مجھے یونہی دوسروں پر فضیلت نہ دیا کرو 24۔بعض نادان کہتے ہیں یہ پہلا زمانہ تھا جب آپ واقعی اپنے آپ کو حضرت موسی سے افضل نہ سمجھتے تھے حالانکہ یہ سراسر غلط ہے۔آپ کو پہلے دن سے ہی اپنے مقام اور افضل ہونے کا علم تھا۔اس میں تو آپ نے اپنی امت کو سبق دیا ہے کہ ایسی باتیں نہ کیا کرو جس سے دوسروں کو تکلیف ہو۔دیکھو کس قدر دوسروں کے احساسات کا احترام مدنظر ہے۔آپ نے بتایا کہ میری فضیلت کا اظہار وعظ ونصیحت کے طور پر کیا کرو۔لڑائی کے وقت یا غصہ کی حالت میں نہ کرو۔پھر آپ نے فرمایا کہ دوسروں کے بزرگوں کی عزت کرو اور ان کی مذمت نہ کیا کر و 25 بلکہ قرآن نے تو غیر اللہ معبودوں کو بھی گالی دینے سے منع فرمایا چنانچہ ارشاد ہوتا ہے لَا تَسُبُّوا الَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللهَ عَدُوًّا بِغَيْرِ عِلْمٍ 26 یعنی دوسروں کے بتوں کو بھی برا نہ کہا کرو کیونکہ وہ نادانی سے خدا کو برا کہہ کر خواہ مخواہ عذاب کے پنجے میں گرفتار ہوں گے۔کس قدر انصاف کا خیال ہے۔پھر غیر یعنی دشمن سے سلوک یہ ہے کہ فرمایا لڑائی میں بھی انصاف کیا کرو۔جتنی تعدی دوسرا تم پر کرتا ہے تم بھی اتنی ہی کرو اس سے زیادہ نہ کرو۔اور جب دوسرا صلح کی درخواست کرے تو خواہ لڑائی تمہارے ہی حق میں ہو فوراً صلح کر لو۔اور تاریخ میں کوئی مثال ایسی نہیں کہ کسی نے مسلمانوں سے صلح کی درخواست کی ہو اور انہوں نے انکار کر دیا ہو۔صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت علیؓ نے مسودہ لکھا کہ اس معاہدہ میں ایک طرف محمد رسول اللہ ہیں۔کفار نے اس پر اعتراض کیا۔آپ نے فرمایا رسول اللہ کا لفظ مٹا دو۔حضرت علیؓ نے عرض کیا