سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 308

سيرة النبي عمال 308 جلد 3 اس آیت میں پہلی بات یہ بیان کی گئی ہے کہ آپ رسول ہیں یعنی بھیجے ہوئے ہیں۔اس میں آپ کی زندگی کا ایک ایسا کیریکٹر بیان کیا گیا ہے جو بہت سے لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے اسی وجہ سے یورپین مصنفین نے خصوصیت کے ساتھ آ کی ذات پر اعتراض کئے ہیں۔وہ وصف جو رسول میں بیان کیا گیا ہے یہ ہے کہ آپ اپنی ذات میں بڑائی کے خواہش مند نہیں آپ کو کبھی یہ خیال بھی نہیں آیا کہ لوگ میری تعریف کریں۔آپ کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ پیچھے رہیں اور دنیوی عزت آپ کی طرف منسوب نہ ہو سوائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مجبور کرتا تھا کہ یہ عزت آپ کو دے۔رسالت سے قبل صداقت ، جرأت وحوصلہ، ہمدردی خلق ، محبت ، ملنساری ، ہمت ، علم کی طرف میلان ، لوگوں کی ترقی کی خواہش غرضیکہ سب صفات حسنہ آپ کے اندر موجود تھیں مگر کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ آپ نے کبھی بڑائی کی خواہش کی ہو۔باوجودیکہ آپ کے اندر وہ تمام قوتیں موجود تھیں جو آپ کو دنیا کا سردار بنا سکتی تھیں۔اگر آپ رسول نہ ہوتے تو بھی سب سے بڑے لیڈر بن سکتے تھے کیونکہ وہ تمام قابلیتیں جو لیڈر بننے کیلئے ضروری ہوتی ہیں آپ کے اندر موجود تھیں مگر ہم آپ کو سیاسی ، تعلیمی ، اقتصادی میدان کے لیڈروں میں نہیں دیکھتے بلکہ غار حرا میں محبوب حقیقی کی یاد میں مصروف پاتے ہیں اور اس پر نظر کر کے یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی ذات میں باوجود ہر قسم کی قابلیت رکھنے کے بڑائی تلاش کرنے کا مادہ نہ تھا۔چالیس سال کی عمر تک آپ آگے نہیں آئے۔اس کے بعد جب آئے تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ کسی اور طاقت نے مجبور کر کے آپ کو آگے کیا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ جَاءَ كُمُ رَسُولُ یعنی تمہیں یہ محسوس کرنا چاہئے کہ شخص جو کلام پیش کرتا ہے اس کے دل میں اپنی بڑائی حاصل کرنے کی خواہش نہیں بلکہ جب ہم نے اسے بھیجا تو یہ مجبور ہو کر آیا۔یہ ایک ایسا کیریکٹر ہے کہ تمام انبیاء کے کیریکٹر اس سے مشابہ ہیں اس لئے رسول کریم ﷺ کا یہ کیریکٹر سمجھنے میں کسی۔