سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 309 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 309

سيرة النبي عليه 309 جلد 3 قوم کو دقت پیش نہیں آ سکتی۔جن مثالوں کی بنا پر ان قوموں نے حضرت موسی ، حضرت عیسی ، حضرت کرشن ، حضرت بدھ ، حضرت زرتشت کو تسلیم کیا ہے اور مانا ہے کہ ہماری خیر خواہی کے جذبات سے متاثر ہو کر وہ آگے آئے تھے کیا وجہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بارہ میں وہ انہیں تسلیم نہ کریں۔ایک موٹی مثال ہندوستان کے بزرگوں میں سے حضرت بدھ کی ہمارے سامنے ہے۔ہمارے ایک ہندو دوست لالہ رام چند منچندہ صاحب نے ابھی اپنی تقریر میں شکایت کی ہے کہ ہندو مسلمان ایک دوسرے کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے۔میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ جہاں تک میری قابلیت تھی کیونکہ سنسکرت تو میں جانتا نہیں باقی ہند ولٹریچر کا میں نے کافی مطالعہ کیا ہے لیکن اس نگاہ سے ہر گز نہیں کہ عیب جوئی کروں بلکہ اس نیت سے کہ چونکہ میرے آقا نے کہا ہے ہر جگہ خوبیاں موجود ہیں اس لئے دیکھوں کہ اس میں کیا خوبیاں ہیں؟ اور میں نے وید، گیتا، رامائن اور گوتم بدھ سب کی تعلیمات میں خوبیاں دیکھی ہیں۔چاہے عقائد مختلف ہوں مگر میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا کہ ان بزرگوں کو دنیا کی عمارت میں بہت اہم مقام حاصل ہے اور انہوں نے اس کی ترقی میں بہت حصہ لیا ہے۔گوتم بدھ جب بعض واقعات سے متاثر ہو کر اپنے گھر سے نکلے تو ان کی چہیتی بیوی سو رہی تھی انہوں نے اسے جگا کر ملنا تک پسند نہ کیا کہ شاید اس کی محبت بھری نگاہیں رکاوٹ کا موجب ہو جائیں اور آپ گھر سے یہ اقرار کر کے نکل گئے کہ جب تک خدا کو نہ پالوں نہیں لوٹوں گا۔اب وہ کون ہندو یا مسلمان ایسا سخت دل ہو سکتا ہے جس کی چشم ان واقعات کو پڑھ کر پر نم نہ ہو جائے۔آپ جہاں جہاں جا سکتے تھے گئے۔گیا 4 میں جب آپ نے روحانی ترقیات حاصل کیں تو لوگ آئے تھے کہ ہمیں اپنا شاگرد بنا لومگر آپ انکار کرتے تھے حتی کہ جب فکر میں گردن جھکائے رہنے والے کو خدا تعالیٰ کی آواز نے اٹھایا اور کہا جا کر لوگوں کو تبلیغ کرو تب انہوں نے تلقین شروع کی۔اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم