سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 307

سيرة النبي عليه 307 جلد 3 الله صلى الله سن کر خوش ہونا چاہئے کہ غیر بھی رسول کریم ﷺ کی خوبیوں کے معترف ہیں۔خود رسول کریم ﷺ نے اپنے ان اوصاف کو جو غیروں نے بیان کئے روایت کیا ہے۔چنانچہ آپ جب شام گئے تو ایک یہودی نے آپ کی تعریف کی۔آپ نے خود اس کا ذکر کیا ہے اور اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے کہ جو ہمارا ہم خیال نہیں وہ رسول کریم علے کی تعریف ہی نہ کرے تو اس طرح خود آپ کی ذات پر اعتراض کا دروازہ کھل جاتا ہے کیونکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ صرف وہی تعریف کرے جو ایمان لا چکا ہو لیکن یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں۔اس طرح دوسری اقوام کے نیک طینت لوگوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور جب منہ بند ہو جائیں تو دلوں پر بھی مہر لگ جایا کرتی ہے۔میرا ارادہ تھا جب میں بیمار نہیں تھا کہ آج بیان کروں رسول کریم نے سلطنت اور بادشاہت کا کیا انتظام تجویز فرمایا لیکن بیماری کی وجہ سے حالت ایسی ہوگئی ہے کہ اتنا لمبا مضمون بیان نہیں کر سکتا اس لئے اختصار کے ساتھ آپ کے وہ چند ایک کیریکٹر جو قرآن کریم کی ایک آیت میں بیان کئے گئے ہیں بیان کروں گا۔اس میں مختلف مضامین آ گئے ہیں مگر چونکہ میں اجمالی رنگ میں بیان کروں گا اس لئے مضمون اتنا لمبا نہ ہو سکے گا۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ 3۔یہ کیا مختصر آیت ہے مگر اس میں آپ کے پانچ زبردست اوصاف بیان کئے گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارے پاس رسول آیا ہے من أَنْفُسِكُمْ جو تم ہی میں سے ہے۔عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ تمہارا تکلیف میں پڑنا اس پر شاق گزرتا ہے۔حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ تمہاری بہتری کیلئے حریص ہے بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ جو لوگ اس کے بتائے ہوئے طریق پر چلیں ان کے ساتھ رافت کا سلوک کرتا ہے۔