سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 306
سيرة النبي عليه 306 جلد 3 دن ایسا آئے گا کہ آج جیسی جھوٹ کی فضا کی بجائے ہم صداقت کی فضا میں پرورش پا رہے ہوں گے۔میں سمجھتا ہوں کوئی شخص ایسا نہیں جسے دوسروں کے بزرگوں میں کوئی خوبی نظر نہ آتی ہو اور اگر کوئی ایسا کہتا ہے تو وہ یقیناً جھوٹ کی فضا میں پرورش پا رہا ہے۔میں تو جس مذہب کی مذہبی کتاب کو بھی دیکھتا ہوں اس میں خوبیاں پاتا ہوں اور میرا مذہب مجھے یہی بتاتا ہے کہ جب کوئی چیز کلیہ بری ہو جائے تو وہ دنیا میں ہر گز نہیں رہ سکتی اللہ تعالیٰ اسے مٹا دیتا ہے۔قرآن کریم تو شراب کے متعلق بھی یہی کہتا ہے کہ اس میں بھی بعض خوبیاں ہیں، ہاں اس کی برائیاں ان سے زیادہ ہیں۔جو مذہب شراب کے متعلق بھی یہ رائے رکھتا ہو کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ان مذاہب کے متعلق جنہوں نے اپنے اپنے زمانہ میں انسانیت کو اس کی حدود کے اندر رکھا اور شر وفساد کو دور کیا یہ کہے کہ ان کے اندر کوئی خوبی نہیں۔پس ہندوستان کیلئے وہ دن بہت بابرکت ہوگا جب لوگ دوسرے مذاہب کی برائیاں دیکھنے کی عادت کو ترک کر کے خوبیاں دیکھنے کے عادی ہو جائیں گے۔بعض دوست یہ اعتراض کرتے ہیں کہ میرا کوئی حق نہیں کہ ایسی تحریک کروں کیونکہ میں آنحضرت علم کے محبوں میں سے نہیں ہوں۔میں سمجھتا ہوں رسول کریم ع کی طرف منسوب ہونے والوں کو حضور ہی کا یہ جملہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ هَلْ شَقَقْتَ قَلْبَهُ 1 کیا تم نے دل چیر کر دیکھ لیا ہے؟ دنیا میں اس سے زیادہ ظلم کوئی نہیں ہو سکتا کہ کسی کی طرف وہ باتیں منسوب کی جائیں جنہیں وہ خود تسلیم نہ کرتا ہو۔لیکن اگر یہ فرض بھی کر لیا جائے کہ یہ صحیح ہے تو رسول کریم نے یہ بھی تو فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی خدمت بعض وقت فاسق سے بھی لے لیا کرتا ہے 2۔اگر ایک دہر یہ آکر ان باتوں کی تعریف کرے جنہیں میں مانتا ہوں تو اس کے معنی سوائے اس کے اور کیا ہو سکتے ہیں کہ یہ نور اس قدر بلند ہو چکا ہے کہ غیر بھی اس کی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔پس اگر بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ میرے دل میں رسول کریم ﷺ کی محبت نہیں تو بھی میرے منہ سے تعریف صلى الله ع