سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 305

سيرة النبي علي 305 جلد 3 مطابق عمل کروں۔پچھلے چند سالوں میں میں نے دیکھا ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اس قدر خراب ہو گئے ہیں کہ اب ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں پر بھی حملے کئے جاتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں جہاں دینی تعلقات خراب ہوتے ہیں وہاں دنیوی تعلقات بھی منقطع ہو جاتے ہیں۔میں نے اس صورت حالات پر غور کیا کہ کیا ایسی تجویز ہوسکتی ہے کہ یہ تعلقات بہتر ہو جائیں اور اسلامی نقطہ نگاہ سے مجھے بہترین ذریعہ یہی نظر آیا کہ ایسی تحریک کی جائے کہ اپنے پیشوا، ہادی، راہنما اور درحقیقت ہمارے دین و دنیا کے درست کرنے والے کے متعلق غیر اقوام سے درخواست کی جائے کہ آپ کے بعض احباب کو ہمارے آقا کے اندر عیب ہی عیب نظر آتے ہیں، کیا کوئی ایسا بھی ہے جو خو بیوں کو دیکھ سکے۔اور اگر کوئی ایسا ہے تو وہ مسیح پر آ کر ان خوبیوں کو بیان کرے تا مسلمانوں کو یقین ہو کہ اگر بعض لوگ حضور کے عیوب بیان کرنا اپنا سب سے بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں تو چند ایسے بھی ہیں جو آپ کے اعلیٰ اوصاف اور خدمات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس طرح مسلمانوں میں جو جوش اور ناراضگی اس وجہ سے ہے کہ دوسری اقوام ہمارے آقا کی تو ہین کرتی ہیں وہ کم ہو جائے اور بین الاقوامی تعلقات بہتر ہو سکیں۔یہ پہلا قدم ہے اور دوسری اقوام کا بھی حق ہے کہ ہم سے مطالبہ کریں کہ ہمارے پیشواؤں کی خوبیاں آ کر بیان کرو اور میں سمجھتا ہوں جلد ہی وہ دن آنے والا ہے کہ ایک ہی سٹیج پر مختلف اقوام کے لوگ ایک دوسرے کے ہادیوں کی الله خوبیاں بیان کریں گے۔اگر ہندو اور سکھ حضرت نبی کریم ﷺ کے متعلق نیک خیالات کا اظہار کریں گے تو مسلمان ان کے پیشواؤں کے متعلق بھی ایسا ہی کریں گے اور مسلمانوں کیلئے یہ امر کوئی مشکل نہیں کیونکہ ان کو تعلیم دی گئی ہے کہ آنحضرت علی پہلے جو ہادی گزرے ہیں وہ بہت اعلیٰ صفات اپنے اندر رکھتے تھے اور کوئی ملک ایسا نہیں جسے اللہ تعالیٰ نے خالی چھوڑا ہو بلکہ ہر ملک میں نبی مبعوث کئے ہیں۔اور جب ایسے جلسے کثرت سے کئے جائیں گے تو ملک کی حالت بہت بہتر ہو جائے گی اور ایک