سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 300

سيرة النبي عمال 300 جلد 3 ہے کہ اول اسلام نے انسانی آزادی سلب کرنے کی اسی وقت اجازت دی ہے جبکہ اس میں اپنی خیر و شر سمجھنے کی طاقت باقی نہ رہی ہو گویا کہ اس کی مثال ایک بچہ کی سی ہے کیونکہ جو شخص تلوار کے ذریعہ سے دوسروں کو اپنا ہم خیال بنانا چاہتا ہے وہ انسان کی ذہنی ترقی کو جو اس کی پیدائش کا اصل مقصود ہے روکتا ہے اور بنی نوع انسان کو اس عظیم الشان مقصد سے محروم کرنا چاہتا ہے جس مقصد کے حصول کے لئے کروڑوں جانوں کو ضائع کر دینا بھی وہ معمولی قربانی سمجھے ہیں۔پس اس قسم کی نادانی کرنے والا انسان یقیناً بچوں سے بدتر ہے اور یقیناً اس امر کا مستحق ہے کہ ایک عرصہ تک اسے قید و بند میں رکھا جائے۔لیکن جس وقت حکومت ایسی کمزور ہو کہ وہ با قاعدہ سپاہی نہ رکھ سکتی ہو اور قوم کے افراد پر جنگی اخراجات کی ذمہ واری فردا فردا پڑتی ہو اس وقت قیدیوں کے رکھنے کا بہترین طریق یہی ہو سکتا ہے کہ ان کو افراد میں تقسیم کر دیا جائے تا کہ وہ ان سے اپنے اخراجات جنگ وصول کر لیں۔جب حکومت کی باقاعدہ فوج ہو اور افراد پر جنگی اخراجات کا بار فردا فردا نہ پڑتا ہو تو اس وقت جنگی قیدی تقسیم نہیں ہوں گے بلکہ حکومت کی تحویل میں رہیں گے۔اسلام نے غلامی کے نقائص کس طرح دور کئے ماتحتی کی بری صورتوں میں سے ایک یہ صورت تھی کہ ماتحت کے ساتھ ذلت کا سلوک کیا جائے اور اس وجہ سے غلامی بری کہلاتی ہے۔لیکن جب اسلام نے یہ حکم دیا ہے کہ مالک جوخود کھائے وہ غلام کو کھلائے اور جو پہنے وہ غلام کو پہنائے اور اس سے وہ کام نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اور وہ کام نہ لے جو آقا اس کے ساتھ خود مل کر کرنے کے لئے تیار نہ ہو اور اسے مارے نہیں اگر مارے تو وہ خود بخود آزاد ہو جائے گا تو ایسے غلام کی حالت ایک چھوٹے بھائی یا بچہ کی طرح ہے۔اگر چھوٹا بھائی یا بچہ غلام نہیں کہلا سکتا تو یہ شخص بھی غلامی کی عام تعریف سے باہر نکل آتا ہے۔