سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 299 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 299

سيرة النبي عمال 299 جلد 3 اس نے ایسی قیود مقرر کر دی ہیں کہ جن کی وجہ سے یہ قید غلامی کے اس مفہوم سے باہر نکل جاتی ہے جو عام طور پر دنیا میں سمجھا جاتا ہے۔کیونکہ اسلام نے ان قیدیوں کے لئے یہ شرائط مقرر کی ہیں :۔(1) ہر شخص جس کے پاس وہ قیدی رہیں وہ انہیں وہی کچھ کھلائے جو خود کھاتا ہے اور وہی کچھ پہنائے جو خود پہنتا ہے۔(2) کوئی شخص انہیں بدنی سزا نہ دے۔(3) ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جو وہ کر نہ سکتے ہوں۔(4) ان سے کوئی ایسا کام نہ لیا جائے جس کے کرنے سے مالک خود کراہت کرتا ہو۔بلکہ مالک کو چاہئے کہ وہ کام میں ان کے ساتھ شریک ہو۔(5) اگر وہ آزادی کا مطالبہ کریں تو انہیں فوراً آزادی دی جائے بشرطیکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر دیں۔(6) فدیہ کی ادائیگی میں بھی یہ شرط رکھی گئی ہے کہ اگر کوئی گھر سے مالدار نہیں ہے اور اس کے رشتہ دار فدیہ دے کر اسے نہیں چھڑا سکتے تو وہ مالک سے ٹھیکہ کر لے کہ فلاں تاریخ تک اتنی قسطوں میں میں یہ رقم ادا کر دوں گا۔اس سمجھوتے پر مالک مجبور ہوگا اور اسی دن سے یہ قیدی اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا اور جو کچھ کمائے گا اس کا ہو گا۔صرف اپنے وقت معین پر مقررہ قسط ادا کرتا رہے گا۔جس دن اصل رقم ادا ہو جائے گی یہ پورے طور پر آزاد سمجھا جائے گا۔(7) غلام کو حق دیا گیا ہے کہ جب کوئی مالک اس کے ساتھ نا مناسب سلوک کرتا ہو تو وہ مجبور کر کے اپنے آپ کو فروخت کرالے۔آزادی سلب کرنے کی اجازت کس صورت میں دی ان قوانین سے یہ بات ثابت