سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 301

سيرة النبي علي 301 جلد 3 تیسرا نقص غلامی میں یہ بیان کیا جاتا ہے کہ انسان ہمیشہ کے لئے ایک بات کا پابند ہو جاتا ہے۔اس کا بھی اسلام نے علاج کر دیا ہے کیونکہ غلام کا حق رکھا ہے کہ وہ اپنا فدیہ دے کر آزاد ہو جائے۔اور اگر وہ اپنا فدیہ یکدم ادا نہیں کر سکتا تو اپنے مالک سے قسطیں مقرر کر لے۔اور جس وقت وہ قسطیں مقرر ہو جائیں اُسی وقت سے وہ اپنے اعمال میں ویسا ہی آزاد ہو گا جیسا دوسرا آزاد شخص اور وہ اپنے مال کا مالک سمجھا جائے گا۔پس ہر ایسا قیدی جو مذہبی جنگ میں گرفتار ہوتا ہے اس کے لئے ممکن ہے کہ وہ آزادی حاصل کر لے۔اور جب آزادی کا حصول اس کے اپنے اختیار میں ہے تو اس قسم کی قید غلامی کی ناجائز شقوں میں کس طرح شامل کی جاسکتی ہے۔قرآن کریم نے غلام کے لئے دو ہی صورتیں رکھی ہیں۔اِمَامَنَّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءَ 5 مذہبی جنگ میں جب کوئی شخص قید ہو تو یا اس کو بطور احسان چھوڑ دیں یا فدیہ لے کر چھوڑ دیں۔پس یہ صورت اسلام میں جائز ہی نہیں کہ باوجود اس کے کہ کوئی شخص اپنا فدیہ پیش کرتا ہو پھر اس کو غلام رکھا جائے۔ہاں یہ ایک صورت رہ جاتی ہے کہ نہ تو کوئی شخص فدیہ دے سکتا ہو اور نہ مالک بغیر فدیہ کے آزاد کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔کیونکہ بالکل ممکن ہے کہ جو رقم اس نے جنگ میں خرچ کی تھی اس نے اس کی مالی حالت کو خراب کر دیا ہو۔ایسی صورت کے لئے قرآن کریم نے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ وَالَّذِينَ يَبْتَغُونَ الْكِتُبَ مِمَّا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوهُمْ إِنْ عَلِمْتُمْ فِيهِمْ خَيْرًا وَاتُوهُمْ مِنْ مَّالِ اللَّهِ الَّذِى أَتُكُم یعنی وہ لوگ جو کہ تمہارے قیدیوں میں سے چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ قسطیں مقرر کر لی جائیں اور انہیں آزاد کر دیا جائے تو ان کے فدیہ کی رقم کی قسطیں مقرر کر لو۔اگر تمہیں معلوم ہو کہ وہ روپیہ کمانے کی اہلیت رکھتے ہیں۔بلکہ چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں سے ان کی مدد کرو یعنی انہیں کچھ سرمایہ بھی دے دو تا کہ اس کے ذریعہ سے روپیہ کما کر وہ اپنا فدیہ ادا کرنے کے قابل ہو جائیں۔