سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 293

سيرة النبي علي امن قائم ہوسکتا ہے۔293 جلد 3 غلامی کو مٹانے کے لئے اصول افسوس کہ ان امور کو مدنظر رکھے بغیر دنیا نے غلامی کو مٹانا چاہا ہے اور بغیر مغز کے صلى الله رسول کریم نے بیان کئے ایک قشر تیار کر کے اس پر خوش ہو رہی ہے حالانکہ غلامی اب بھی موجود ہے اور موجود رہے گی۔اس کی بعض صورتیں مٹائی نہیں جاسکتیں اور مٹائی نہیں جاسکیں گی کیونکہ وہ اچھی صورتیں ہیں بری نہیں۔اور بعض صورتیں ظاہراً مٹادی گئی ہیں حقیقتاً موجود ہیں اور اُس وقت تک موجود رہیں گی جب تک کہ سوسائٹی کے تمدن کی بنیاد ان اصول پر نہ رکھی جائے گی جن سے غلامی کی روح مٹ سکتی ہے اور وہ اصول صرف اور صرف اسلام نے بیان کئے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ علیہ نے ان کی بنیاد رکھی ہے۔سرولیم میور کا اعتراض باوجود اس کے سرولیم میور جیسے ناواقف لوگ یہ کہتے ہیں کہ معمولی اہمیت والے معاملات کو نظر انداز کر کے اسلام سے تین بہت بڑے عیب پیدا ہوئے ہیں جو ہر ملک اور ہر زمانہ میں رائج رہے ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک کہ قرآن پر مسلمانوں کے ایمان کی بنیاد ہے۔اول کثرت ازدواج ، طلاق اور غلامی کے مسائل۔یہ پبلک کے اخلاق کی جڑ پر تبر رکھتے ہیں اور اہلی زندگی کو زہر آلود بناتے ہیں اور سوسائٹی کے نظام کو تہ و بالا کرتے ہیں 1۔مگر حقیقت یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محمد رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ سے ہی ان تینوں عیوب کے دور کرنے کا طریق بتایا ہے۔اس طریق کو نظر انداز کر دو تو یقیناً ایک عیب کی اصلاح کرتے ہوئے دوسرا عیب پیدا ہو جائے گا اور اس کی اصلاح کرتے ہوئے پھر تیسرا پھر چوتھا۔اور ایک گڑھے سے بچنے کی کوشش میں انسان دوسرے گڑھے میں گرے گا جو پہلے سے بھی زیادہ گہرا ہو گا۔یہاں تک کہ وہ مجبور ہو کر اس