سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 292

سيرة النبي علي 292 جلد 3 ڈالتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ایک مالدار آدمی کے پاس فروخت ہو جانے پر ان کی یا ان کے بچوں کی حالت اچھی ہو جائے گی۔جہاں تک میں خیال کرتا ہوں اُس زمانہ کے نقطہ نگاہ کے ماتحت یہ بات بھی کوئی معیوب نہ تھی کیونکہ عمر بھر بھو کے رہنے، بیماریوں میں مبتلا رہنے اور اپنے بیوی بچوں کو بھوکا تڑپتے دیکھنے سے یہ بات اُس وقت کے تمدن کے لحاظ سے بہتر معلوم ہوتی تھی کہ کوئی شخص اپنی ساری عمر کی خدمت کا اقرار ب شخص سے کر لے اور اس کے بدلہ میں کوئی دوسرا شخص اس کی رہائش اور اس کے کھانے پینے کا ذمہ وار ہو۔میری یہ تمہید اور غلامی کی تاریخ پر غور کرنے سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ انسانی سوسائٹی پر بعض دور ایسے آتے ہیں جبکہ غلامی ضروری ہو جاتی ہے اور یہ کہ غلامی کے اصل نقائص یہ ہیں :۔(1) کہ انسان کی آزادی بالکل مسلوب ہو جائے۔(2) اس کی قید اس کے فائدہ کے لئے نہ ہو۔( 3 ) جبکہ انسان کو اس وقت مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی برائی اور بھلائی پہچان سکتا ہو۔(4) جبکہ آزادی کا حصول اس کے اختیار میں نہ ہو۔(5) جبکہ غلام اور آقا کے تعلقات کی بنیاد حسن سلوک پر نہ ہو۔غلامی کس طرح مٹ سکتی ہے اگر کوئی ایسا قانون ہو جو ان سب باتوں کا لحاظ کرے تو وہی قانون صحیح طور پر غلامی کو دنیا سے مٹا سکے گا۔کیونکہ جب تک غلامی کی ضرورتوں کو جو بعض دفعہ ایک آزاد انسان کو بھی غلام بننے پر مجبور کر دیتی ہیں دور نہ کیا جائے اُس وقت تک غلامی کلی طور پر دنیا سے نہیں مٹ سکتی۔اور جب تک ایسے لوگوں کو جو اپنے نفس کو قابو میں نہ رکھ سکیں اور دنیا کے تمدن کے تختے کو الٹنے کی کوشش میں ہوں ان کو خطرناک جرائم کی سزا میں بعض قیود اور حد بندیوں کے نیچے نہ لایا جائے اُس وقت تک نہ غلامی مٹ سکتی ہے نہ دنیا میں