سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 283 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 283

سيرة النبي علي 283 جلد 3 میں نے کہا ہاں اور ایک بکری ایک اشرفی میں اس کے پاس فروخت کر دی۔پھر رسول کریم ﷺ کے پاس جا کر بکری بھی اور اشرفی بھی پیش کر دی اور آپ کے دریافت فرمانے پر سب حال کہہ سنایا۔آپ نے اس کی ہوشیاری کو دیکھ کر اس کے لئے دعا فرمائی۔نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود یہ کہ عرب ایرانیوں اور رومیوں جیسے تاجر نہ تھے مگر وہ صحابی بیان کرتے ہیں کہ اگر میں نے مٹی بھی خریدی تو وہ سونے کے بھاؤ بک گئی۔لوگ زبر دستی روپیہ میرے پاس تجارت کے لئے چھوڑ جاتے تھے اور میں لینے سے انکار کرتا رہتا تھا 1۔یہ لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ 2 کے دوسرے معنی ہیں۔اس میں اپنے کسی ہنر یا محنت کا دخل نہ تھا۔یہ خدا تعالیٰ کی اپنی آواز تھی جس کے ذریعہ رسول کریم ﷺے بڑھے اور آپ کے ساتھ ہی آپ کے وابستگان دامن بھی بڑھتے چلے گئے۔جیسے اگر کوئی شخص گھوڑے پر سوار ہو تو اس کا کوٹ، پاجامہ اور دوسرے پار چات بھی سوار ہو جائیں گے۔ان لوگوں نے یہاں تک ترقی کی کہ ایک واقعہ لکھا ہے حضرت ابو ہریرہ کسی علاقہ کے گورنر مقرر ہوئے۔یہ کسریٰ کے خزانوں کی فتوحات کا زمانہ تھا جس میں ابو ہریرۃا کو ایک رومال ملا جو کسرگی دربار میں آتے ہوئے زینت کے طور پر ہاتھ میں رکھا کرتا تھا۔ابو ہریرہ کو جو چھینک آئی تو اس رومال سے ناک صاف کر لیا اور پھر فر مایا واہ ابو ہریرہ ! کبھی تو وہ دن تھے کہ تو بھوک کی وجہ سے بے ہوش ہو جایا کرتا تھا اور لوگ یہ سمجھ کر کہ مرگی کا دورہ ہو گیا ہے تیرے سر میں جوتیاں مارا کرتے تھے اور آج یہ دن ہے کہ کسریٰ کے رومال میں تو تھوکتا ہے 3۔حضرت ابو ہریرۃ بہت بعد میں ایمان لائے تھے یعنی رسول کریم ﷺ کی وفات سے صرف تین سال قبل۔اس کمی کو پورا کرنے الله کیلئے آپ مسجد سے باہر نہیں نکلتے تھے تا رسول کریم ﷺ کی ہر ایک بات سن سکیں۔اس وجہ سے ان کو بعض اوقات سات سات فاقے آ جاتے۔لوگ سمجھتے انہوں نے کھانا کھا لیا ہو گا اور ان سے دریافت نہ کرتے۔وہ شدت بھوک کی وجہ سے بے ہوش