سیرت النبی ﷺ (جلد سوم)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 282 of 536

سیرت النبی ﷺ (جلد سوم) — Page 282

سيرة النبي علي 282 جلد 3 رسول کریم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی ترقیات 12 ستمبر 1931 ء بعد نماز مغرب بیت احمد یہ سیالکوٹ میں سورۃ الفرقان آیت 78 کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔پھر اس آیت کے دوسرے معنی یہ ہیں کہ اگر خدا تعالیٰ بندہ کو نہ پکارتا تو اس کا کیا حشر ہوتا۔بندوں کے خدا کو پکارنے کی مثال تو اہل یورپ میں دی جا چکی ہے یا ہندوستان میں ہندوؤں کی ہے جنہوں نے خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ذرائع کو استعمال کر کے ترقی حاصل کی اور خدا کے بندوں کو پکارنے کی مثال اس کے نبیوں کی ہے۔رسول کریم ع گوشتہ گمنامی میں پڑے تھے اور غار حرا میں عبادتیں کیا کرتے تھے۔علا آپ نے وہ تمام ذرائع جو دنیوی ترقی کے ہیں ترک کر رکھے تھے۔مگر آپ کے پاس خدا تعالیٰ کا فرشتہ آیا اور اس نے کہا اٹھ ! خدا تجھے بلاتا ہے۔اور پھر اس گوشئہ گمنامی سے نکال کر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بادشاہ بنا دیا اور ایسی ترقی عطا کی کہ مذہب و ملک اور تمدن و معاشرت سب پر آپ کا رنگ چھا گیا۔حتی کہ آپ کے غلام یو نیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کئے بغیر اور لیبارٹریز میں تجربات کرنے کے بغیر ہی ہرفن میں دنیا کے استاد بن گئے اور جس میدان میں بھی انہوں نے قدم رکھا تمام دنیا سے آگے بڑھ گئے۔ایک صحابی کا بیان ہے رسول کریم علیہ نے مجھے ایک اشرفی دی کہ قربانی کے لئے بکری لے آؤ۔میں نے سوچا مدینہ میں تو اس رقم سے ایک ہی بکری ملے گی مگر کسی گاؤں سے دومل جائیں گی اس لئے میں نے ایک گاؤں سے ایک اشرفی میں دو بکریاں خریدیں۔جب واپس آیا تو مدینہ میں کسی نے پوچھا کیا بکری فروخت کرو گے؟